تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 223
کے ڈھیر لگ رہے ہیں اور قسما قسم کی دوکانیں خوبصورت اسباب سے جگمگا رہی ہیں۔یکّے ، بگھیاں، ٹم ٹم، فِٹن، پالکیاں، گھوڑے، شکرمیں، پیدل اس قدر بازار آتے جاتے ہیں کہ مونڈھے سے مونڈھا بھڑکر چلتا ہے اور راستہ بمشکل ملتا ہے۔‘‘ (تذکرہ صفحہ ۳۹۳،۳۹۴) یہ پیشگوئی ہے جو قادیان کی ترقی کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمائی۔اسی طرح اللہ تعالیٰ نے آپؑکو یہ خبر دی کہ لوگ اپنے وطنوں کو چھوڑ کر قادیان میں ہجرت کر کے آ جائیں گے (تذکرہ صفحہ ۵۱) چنانچہ ان پیشگوئیوں کے مطابق قادیان خدا تعالیٰ کے فضل سے روز بروز بڑھ رہا ہے اور ہزارہا لوگ قادیان میں ہجرت کر کے آ چکے ہیں۔اپنے وطن کو چھوڑ دینا اور مال و املاک کو ترک کر کے ایک دوسرے شہر میں محض خدا کی رضا کے لئے ہجرت کر کے چلے جانا بڑی بھاری قربانی کی علامت ہوتی ہے اور جس قوم میں یہ قربانی پائی جاتی ہو وہ کبھی مٹ نہیں سکتی۔اس کے مقابلہ میں عکّہ اور بہجہ میں جا کر دیکھ لو بہائی لوگ بیٹھے مکھیاں مارتے رہتے ہیں اور کوئی شخص بیرون جات سے ان کے پاس نہیں آتا۔ہمارے آدمی سفر یورپ کے موقع پر وہاں گئے تو بہائی لوگ ان کے پیچھے پڑگئے کہ بہاء اللہ کی قبر کے انگور لے جاؤ۔یہ بڑی برکت والے ہیں۔گویا ان کی حالت بالکل مجاوروں کی سی ہے اور وہی مشرکانہ رسوم وہاں پائی جاتی ہیں جو ہندوستان میں بعض قبروں پر پائی جاتی ہیں۔پھر وہاں ان کی ترقی کی جو حالت ہے اس کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ جب ہم عکّہ گئے تو جس سے بھی پوچھیں کہ بہائیوں کا مرکز کہاں ہے تو وہ کہتے کہ ہمیں تو علم نہیں۔اس پر ہمیں بڑی حیرت ہوئی کہ ہم عکّہ میں بھی پہنچ گئے ہیں اور بہائیوں کے مرکز کا بھی ہمیں پتہ نہیں لگتا۔آخر بڑی دیر کے بعد ایک شخص نے بتایا کہ آپ غلط سوال کر رہے ہیں بہائی اس علاقہ میں بہائیت کے نام سے نہیں بلکہ عجمیت کے نام سے مشہور ہیں اور ان کو سب لوگ یہاں عجمی کہتے ہیں۔آپ عجمی کہہ کر دریافت کرتے تو کسی کو علم بھی ہوتا کہ آپ کن لوگوں کا ذکر کر رہے ہیں۔پھر اس نے بتایا کہ یہ عجمی بھی عکّہ میں نہیں رہتے بلکہ تین چار میل پرے ایک جگہ بہجہ ہے وہ وہاں رہتے ہیں۔چنانچہ ہم موٹر لے کر وہاں پہنچے اور بہائیوں کے حالات کا مشاہدہ کیا۔اس وقت ہمیں معلوم ہوا کہ چونکہ بعض پیشگوئیوں میں عکّہ کا لفظ آتا تھا اس لئے انہوں نے عکّہ کو اپنا مرکز لکھنا شروع کر دیا حالانکہ وہ عکّہ میں نہیں بلکہ اس سے بھی چار پانچ میل دور رہتے تھے اور پھر باوجود اس کے کہ سالہاسال سے باب اور بہاء اللہ کا دعویٰ تھا پھر بھی ان کی حالت یہ تھی کہ چار پانچ میل تک بھی لو گ ان کو نہیں جانتے تھے اور یہاں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی برکت سے یہ حالت ہے کہ کوئی شخص آپؑکا نام لے دے فوراً لوگ سمجھ جاتے ہیں کہ یہ مرزا صاحبؑکے ماننے والوں میں سے ہے بلکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃوالسلام