تفسیر کبیر (جلد ۱۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 222 of 405

تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 222

کی تمام پیشگوئیاں تقاضا کر رہی تھیں کہ کوئی مدعی اللہ تعالیٰ کی طرف سے کھڑا ہو اور وہ لوگوں کی اصلاح کا فرض سرانجام دے۔لوگ کہہ دیا کرتے ہیں کہ حضرت مرزا صاحبؑ کو کون سی ترقی ایسی حاصل ہوئی ہے جس کی بنا پر ہم یہ یقین کر لیں کہ آپؑ اپنے دعویٰ میں سچے تھے۔اس کا جواب یہ ہے کہ اوّل کوئی موعود ایسا نہیں گذرا جس کی ہرملک میں جماعت ہو۔ہماری جماعت ایسے ایسے ممالک میں قائم ہے جہاں آج سے چند سال پہلے ایک احمدی بھی نہیں تھا۔اور جہاں اسلام کا نام بھی نہیں پہنچا تھا۔پھر بڑی بات یہ ہے کہ احمدیوں کو وہاں وہاں کام کرنے کا موقع ملا ہے جہاں دوسرے مدعیوں کا ایک فرد بھی نہیں پہنچا۔مثلاً مغربی افریقہ ہے اس ملک کے رہنے والے لوگ ننگے پھرتے تھے۔علم سے بے بہرہ تھے اور تہذیب وتمدن سے قطعی طور پر نا آشنا تھے۔جب احمدی مبلغین وہاں تبلیغ کے لئے گئے تو ان کی وجہ سے ہزارہا لوگ انسانیت کے دائرہ میں شامل ہوئے اور انہوں نے بھی متمدن زندگی بسر کرنی شروع کر دی۔درحقیقت اس قسم کے عملی کاموں سے ہی کسی قوم کی زندگی کا پتہ لگ سکتا ہے ورنہ خالی ٹریکٹ شائع کر دینے سے کچھ نہیں بنتا۔ہماری جماعت کو خدا تعالیٰ کے فضل سے اس قسم کا کام کرنے کی توفیق ملی ہے جس قسم کا کام کرنے کی دوسرے مدعیوں کی جماعتیں قطعاً کوئی مثال پیش نہیں کر سکتیں۔ترقی کی ایک اور علامت جو قرآن کریم سے ثابت ہوتی ہے اور جو خدا تعالیٰ کے فضل سے ہم میں تو پائی جاتی ہے لیکن دوسرے مدعیوں کی جماعتیں اس سے محروم ہیں وہ قوم کا ایک مرکز پر مجتمع ہونا ہے تاکہ اس کا شیرازہ منتشر نہ ہو اور وہ متحدہ طاقت سے دنیا میں تبلیغ کرنے کا پروگرام جاری رکھ سکے۔مثلاً بہائیوں کا اس وقت تک کوئی مرکز نہیں لیکن جماعت احمدیہ کا قادیان مرکز ہے جہاں ہر سال ہزاروں لوگ آتے اور علمی اور روحانی لحاظ سے فائدہ اٹھا کر اپنے گھروں کو واپس جاتے ہیں۔یہ وہ مرکز ہے جس کی نسبت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو الہام ہوا کہ یَاْتِیْکَ مِنْ کُلِّ فَـجٍّ عَـمِیْقٍ۔یَاْتُوْنَ مِنْ کُلِّ فَـجٍّ عَـمِیْقٍ (تذکرہ صفحہ ۴۸،۴۹) تیری طرف دور دور سے اور اس کثرت سے لوگ آئیں گے کہ سڑکوںمیں گڑھے پڑ جائیں گے۔پھر آپؑ نے رؤیا میں قادیان کی ترقی کو دیکھا اور فرمایا۔’’ہم نے کشف میں دیکھا کہ قادیان ایک بڑا عظیم الشان شہر بن گیا ہے اور انتہائی نظر سے بھی پرے تک بازار نکل گئے۔اونچی اونچی دو منزلی یا چو منزلی یا اس سے بھی زیادہ اونچے اونچے چبوتروں والی دوکانیں عمدہ عمارت کی بنی ہوئی ہیں اور موٹے موٹے سیٹھ بڑے بڑے پیٹ والے جن سے بازار کو رونق ہوتی ہے بیٹھے ہیں اور ان کے آگے جواہرات اور لعل اور موتیوں اور ہیروں، روپوں اور اشرفیوں