تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 221
شہادت اس دلیل میں مل جانی چاہیے۔لِذِیْ حِجْرٍ کے الفاظ کا استعمال صاف بتا رہا ہے کہ گذشتہ عظیم الشان نشانات کو پیش کرتے ہوئے کہا جا رہا ہے کہ اب تو عقل مند انسان کی سمجھ میں یہ آ جانا چاہیے کہ جو کچھ دعویٰ کیا جا رہا ہے اس کے دلائل بیّنہ اور براہینِ قاطعہ موجود ہیں اور جب یہ ظاہر ہوں گے اس وقت تمہیں ماننا پڑے گا کہ واقعہ میں خدا تعالیٰ نے عظیم الشان غیب کی خبریں دی ہیں۔یہ کہہ دینا کہ مرزا صاحبؑنے یوں ہی ایک دعویٰ کر دیا ہے اور بات ہے مگر سوال یہ ہے کہ ایسے شخص کے دل میں یہ خیال کس طرح پیدا ہو گیا کہ وہ ۱۸۹۰ء میں ہی دعویٰ کرے یا آپؑسے پہلے کسی کے دل میں یہ خیال کیوں پیدا نہ ہوا کہ وہ ۱۸۹۰ء میں یہ دعویٰ کر دے۔یہ تعدا د اور سال بہرحال ایک حد تک مخفی تھے۔پھر پہلے لوگوں کے دلوں میں ان کا خیال کیوں پیدا نہ ہوا اور کیوں آپؑنے ہی اس وقت دعویٰ کیا جس وقت پیشگوئیوں کے مطابق مدعی کا کھڑا ہونا ضروری تھا۔پھر سوال یہ ہے کہ باقی لوگ کیوں کامیاب نہیں ہوئے اور آپ کیوں کامیاب ہو گئے۔مہدی کا دعویٰ حضرت مرزا صاحبؑ سے پہلے اور بھی سینکڑوں لوگ کر چکے تھے پھر وجہ کیا ہے کہ وہ تو مٹ گئے اور جس نے ۱۸۹۰ء میں دعویٰ کیا اسے خدا نے طاقت عطا فرمائی۔کیا یہ اس بات کا ثبوت نہیں کہ اس کا دعویٰ خدا تعالیٰ کی طرف سے تھا اتفاقی نہیں تھا۔اگر اتفاقی ہوتا اور آپؑکی کامیابی ظاہری جدوجہد کا نتیجہ ہوتی تو بعض مدعیٔ مہدویت ایسے بھی ہوئے ہیں جنہوں نے ملک فتح کئے اور حکومت قائم کی اور گو وہ بعد میں تباہ ہوگئے مگر بہرحال ان کے لئے ترقی پانے کے زیادہ مواقع تھے لیکن اس کے باوجود ایک عارضی کامیابی کے بعد انہوں نے شکست کھائی اور ان کا نام ہمیشہ کے لئے مٹ گیا۔اس کے مقابلہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو کامیابی حاصل کرنے کے کوئی مواقع میسر نہیں تھے لیکن اس کے باوجود آپؑنے دنیا پر فتح پائی۔پھر ایک اور فرق یہ ہے کہ آپؑنے انہی تاریخوں پر دعویٰ کیا جن تاریخوںکی قرآن کریم اور احادیث میں خبر دی گئی تھی مگر باقی لوگوں میں سے کسی نے آگے دعویٰ کر دیا اور کسی نے پیچھے۔گویا وہ سب کے سب ’’مِس فائر‘‘ کر گئے اور صرف آپؑہی ایسے ثابت ہوئے جنہوں نے ٹھیک وقت پر لوگوں کے سامنے اپنا دعویٰ پیش کیا۔باب نے دعویٰ کیا مگر اس نے بہت پہلے دعویٰ کر دیا۔اس کے بعد بہاء اللہ نے دعویٰ کیا مگر اس کا دعویٰ بھی پہلے ہوا اور گو اس نے کچھ زمانہ ایسا پایا جس سے یہ امر مشتبہ ہو سکتا تھا۔مگر عین اس سے پہلے جب کہ مہدی کی مخصوص علامت چاند اور سورج گرہن نے ظاہر ہونا تھا وہ اس دنیا سے چل بسا۔گویا سب مدعی شہادت کے مواقع سے یا پہلے گذر گئے یا بعد میں پیدا ہوئے لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ایسے وقت میں دعویٰ فرمایا جب قرآن اور احادیث