تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 216
وَتر کا ہے‘‘ جیسے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب غارِ ثور میں گئے تھے اور حضرت ابو بکرؓ آپؐکے ساتھ تھے تو آپؐنے فرمایا تھا لَا تَحْزَنْ اِنَّ اللّٰہَ مَعَنَا غم مت کر خدا ہمارے ساتھ ہے اسی طرح جب شاہِد و مشہود جمع ہوجائیں گے یعنی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم دوبارہ ظاہر ہوں گے اور آپؐکا ایک خادم بھی جو آپؐکا بروز ہو گا ظاہر ہو گا تو وہ وقت بھی اسلام کے لئے نہایت سخت ہو گا اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے شاگرد سمیت گویا محصور ہو جائیں گے تب وَتر یعنی اللہ تعالیٰ پھر اس بات کو ثابت کرے گا کہ وہ ان کے ساتھ ہے۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا الہام ہے:۔’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پناہ گزیں ہوئے قلعۂ ہند میں۔‘‘ (تذکرہ صفحہ ۴۶۶) یعنی جس طرح پہلے کفار کے حملہ سے بچنے کے لئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے غار ثور میں پناہ لی اور حضرت ابوبکرؓ آپؐکے ساتھ تھے اسی طرح آخری زمانہ میں آپ کی روحانیت کفر سے بچنے کے لئے قلعۂ ہند پناہ گزیں ہوئی ہے۔اس الہامِ الٰہی نے صاف بتا دیا کہ دوسری غارِ ثور ہندوستان میں ہونے والی ہے۔پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم غارِ ثور میں پناہ لیں گے۔پھر آپؐکے ساتھ آپؐکا ایک ساتھی ہوگا، اور پھر آپؐاسے فرمائیں گے کہ اللہ ہمارے ساتھ ہے یعنی اللہ تعالیٰ کی مدد اور اس کی نصرت سے وہ قید ہی کامیابی کا ذریعہ ہو جائے گی۔پس وَالشَّفْعِ وَالْوَتْرِ میں یہ بتایا گیا ہے کہ جس طرح پہلے غار ثور میں حضرت ابوبکرؓ کے ساتھ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پناہ گزیں ہوئے تھے اس آخری دَور میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسیح موعودؑ کے ساتھ پناہ گزیں ہوں گے مگر اس دفعہ غارِ ثور میں نہیں بلکہ قلعۂ ہند میں پناہ گزیں ہوں گے اور پھر خدا تعالیٰ ان کی معیّت کے لئے اپنے فرشتوں کی فوج کے ساتھ اترے گا جس طرح کہ غار ثور کے وقت اترا تھا۔علاوہ ازیں وَالشَّفْعِ وَالْوَتْرِ کے ایک اور معنے بھی ہو سکتے ہیں اور وہ یہ کہ درمیانی عطف کو اَلْفَجْرِ کی طرف منسوب نہ کیا جائے بلکہ شفع کی طرف پھیرا جائے اس صورت میں اس کے یہ معنے نہ ہوں گے کہ ہم قسم کھاتے ہیں شفع کی اور ہم قسم کھاتے ہیں وَتر کی بلکہ اس کے معنے یہ لئے جائیں گے کہ ہم قسم کھاتے ہیں شفع کی اور اس کے ساتھ تعلق رکھنے والے وَتر کی۔گویا وَتر کی علیحدہ قسم نہیں کھائی بلکہ شفع اور وتر کو ملا کر ان کی قسم کھائی گئی ہے اور بتایا گیا ہے کہ ایسے وجود کو ہم بطور شاہد پیش کرتے ہیں جو اپنی ذات میں شفع بھی ہے اور وتر بھی ہے۔اس صورت میں اس آیت کے یہ معنے ہوں گے کہ میں اس شفع کو شہادت کے طور پر پیش کرتا ہوں جو ساتھ ہی وَتر بھی ہے۔یعنی