تفسیر کبیر (جلد ۱۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 209 of 405

تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 209

اس آیت کی تشریح سے پہلے یہ سمجھ لینا چاہیے کہ سورۂ احزاب میں رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کے خاتم النبیّین ہونے کا دعویٰ لوگوں کے سامنے پیش کیا گیا تھا اور بتایا گیا تھا کہ آئندہ تمام فیوض رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے واسطہ سے ہی بنی نوع انسان حاصل کر سکیں گے براہ راست بغیر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی کے وہ اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل نہیں کر سکتے۔یہ مضمون جو سورۂ احزاب میں تھا اسی کا سورۂ سبا میں ذکر آتا ہے اور اس امر کا ثبوت دیا گیا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ دنیا میں ایک مستقل نظام قائم کیا جائے گا۔خاتم کے معنے یہ تھے کہ آپ سے الگ ہوکر کوئی فیضان نہیں ملے گا بلکہ آپ کی اطاعت اور غلامی میں رہ کر انسان الٰہی برکات اور فیوض سے متمتع ہو سکے گا۔اس پر سوال پیدا ہوتا تھا کہ کیااس کے یہ معنے ہیں کہ نظامِ روحانی میں آپ نے لوگوں کو اعلیٰ مقامات کے حصول سے روک دیا ہے؟ اس کا جواب سورۂ سبا میں اللہ تعالیٰ نے یہ دیا کہ آپ نے نظام روحانی میں لوگوں کو اعلیٰ مقامات کے حصول سے نہیں روکا اور اس کا ثبوت یہ ہے کہ ہمیشہ ایسے نبی آتے رہیں گے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کے خدام اور آپؐکے غلاموں میں سے ہوں گے چنانچہ فرمایا اے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تیری نبوت ختم ہونے والی نہیں بلکہ قیامت تک جاری رہے گی۔اور اس کا ثبوت یہ ہے کہ تو قیامت تک لوگوں کے لئے بشیر و نذیر ہے جیسے کہ فرمایا وَ مَاۤ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا كَآفَّةً لِّلنَّاسِ بَشِيْرًا وَّ نَذِيْرًا (سبا:۲۹)ہم نے تجھے تمام انسانوں کے لئے خواہ وہ عرب ہوں، شامی ہوں، فلسطینی ہوں یا اور کسی قوم کے ہوں۔اس صدی کے ہوں یا اگلی صدی کے سب کے لئے بشیر ونذیر بنا کر بھیجا ہے۔یوں تو ہر نبی جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے کھڑا ہو اس کو ماننا پڑتا ہے۔موسیٰ علیہ السلام گو ساری دنیا کے لئے مامور نہیں تھے مگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ماننے والوں کو ان پر بھی ایمان لانا پڑتا ہے لیکن فرماتا ہے ہم نے تجھے خالی اس لئے نہیں بھیجا کہ لوگ تجھ پر ایمان لائیں بلکہ تو قیامت تک ہر زمانہ میں بشیر و نذیر ہو گا۔موسٰی بے شک نبی ہیں مگر وہ آج کوئی بشارت اور انذار نہیں کرر ہے ان کے کوئی ایسے احکام نہیں چل رہے جن کے انکار کی وجہ سے لوگوں پر عذاب نازل ہو یا جن کو ماننے کی وجہ سے وہ خدا تعالیٰ کے فضل اور اس کے انعامات کے مورد ہوں۔ماننے کی وجہ سے فضل نازل ہونا اور انکار پر عذاب نازل ہونا اسی نبی کی وجہ سے ہوتا ہے جس کی نبوت جاری ہو۔پس فرماتا ہے ہم نے تجھے تمام لوگوں کے لئے اور تمام زمانوں کے لئے مبعوث فرمایا ہے ایسی صورت میں کہ صرف تیری نبوت پر ان کے لئے ایمان لانا ضروری نہیں بلکہ تو ان کے لئے بشیر ونذیر بھی ہو گا۔جو لوگ تجھے مانیں گے ان پر خدا تعالیٰ کے فضل نازل ہوں گے اور جو انکار کریں گے ان پر خدا تعالیٰ کا عذاب نازل ہو گا۔پھر فرماتا ہے وَلٰکِنَّ اَکْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ (سبا:۲۹) لیکن اکثر لوگ اس سے واقف