تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 207
مسلمانوں کے تنزّل کی تاریخ چنانچہ میں نے جب اس حدیث کو دیکھا اور سورۂ رعد پر بھی غور کیا تو میں نے یہ تحقیق شروع کی کہ آیا ۲۷۱ھ میں یا اس کے قریب قریب کوئی خاص اور اہم واقعہ جس کا تعلق اسلامی تنزل کے ساتھ ہو رونما ہوا ہے یا نہیں کیونکہ بعض دفعہ کوئی واقعہ رونما تو کسی سال ہوتا ہے مگر اس کی بنیاد ایک ایک دو دو سال پہلے سے پڑنی شروع ہو جاتی ہے اس لحاظ سے میں نے غور کیا کہ آیا۲۷۰ھ سے ۲۸۰ھ تک کوئی واقعہ ایسا ہوا ہے یا نہیں جسے اسلامی تنزل کی بنیاد قرار دیا جا سکے۔جب میں نے غور کیا اور اسلامی تاریخ کو دیکھا تو میری حیرت کی کوئی انتہا نہ رہی جب ۲۷۰ھ یا۲۷۲ھ یا ۲۷۳ھ یا ۲۷۴ھ میں نہیں بلکہ عین ۲۷۱ھ میں سپین کے بادشاہ نے پوپ سے معاہدہ کیا کہ وہ بغدادی حکومت کو تباہ کرنے کے لئے اس کا ساتھ دے گا۔گویا ایک مسلمان بادشاہ نے ایک عیسائی بادشاہ سے معاہدہ کیا کہ وہ اس کے ساتھ مل کر اسلامی بادشاہ کا مقابلہ کرے گا اور اس کی حکومت کو تباہ کرے گا۔اس کے بعد بغداد رہ گیا تھا میں نے اس کی تاریخ کا مطالعہ کیا تو معلوم ہوا کہ ۲۷۲ھ یا۲۷۳ھ میں بغداد کی حکومت نے قیصر روم سے معاہدہ کیا کہ وہ اس کے ساتھ مل کر سپین کی حکومت کو تباہ کرے گا۔یہ دو۲ واقعات ایسے خطرناک ہوئے جنہوں نے اسلام کی طاقت کو ہمیشہ کے لئے کمزور کر دیا اور اسلامی ترقی کا دَور اپنی شان اور عظمت کو کھو بیٹھا۔اس سے پہلے مسلمانوں کے اتحاد کی یہ حالت تھی کہ قیصر روم نے جب حضرت علیؓ اور معاویہ کو آپس میں جنگ کرتے دیکھا تو اس نے ارادہ کیا کہ میں مسلمانوں پر حملہ کر دوں۔چونکہ رستہ میں معاویہ کی حکومت تھی اور بعد میں حضرت علیؓ کی حکومت آتی تھی۔اس لئے جب حضرت معاویہ نے یہ بات سنی تو انہوں نے قیصر روم کو کہلا بھیجا کہ ہماری آپس کی لڑائی سے تمہیں کسی غلط فہمی میں مبتلا نہیں ہونا چاہیے یاد رکھو اگر تمہارا لشکر آیا تو سب سے پہلا جرنیل جو علیؓ کی طرف سے تمہارے مقابلہ کے لئے نکلے گا وہ میں ہوں گا(البدایۃ النـھایۃ جلد ۸ صفحہ ۱۲۵،۱۲۶) یعنی صرف یہی نہیں کہ سب سے پہلے میں تمہارے ساتھ لڑوں گا بلکہ اسی وقت میں اپنے ہتھیار ڈال دوں گا اور علیؓ کے ماتحت ہو جاؤں گا۔قیصر روم نے جب یہ بات سنی تو وہ ڈر گیا اور اس نے مسلمانوں پر حملے کا ارادہ ترک کر دیا۔اب یا تو مسلمانوں کی یہ حالت تھی کہ وہ باوجود آپس میں برسرِ پیکار ہونے کے دشمن کے مقابلہ میں متحد ہو جاتے تھے اور یا یہ زمانہ آیا کہ ۲۷۱ھ میں ایک اسلامی حکومت پاپائے روم سے اور دوسری اسلامی حکومت قیصر قسطنطنیہ سے اس لئے معاہدہ کرتی ہے کہ دوسری اسلامی حکومت کو وہ عیسائیوں کے ساتھ مل کر مٹا دے اور اس کی طاقت کو کچل دے۔اِنَّا لِلّٰهِ وَ اِنَّاۤ اِلَيْهِ رٰجِعُوْنَ۔گویا انتہا درجہ کے تنزل کی بنیاد