تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 204
دلائل جو مشرکین کے لئے بیان کئے جاتے تھے عیسائیوں کے لئے کافی نہیں تھے اس لئے انہوں نے کتبِ صادقہ سے پیشگوئیاں تلاش کرنی شروع کر دیں۔اسی طرح قرآن کریم پر غور کر کے انہوں نے نئے نئے دلائل پیدا کئے چنانچہ بعد کی تفسیروںمیں جو کچھ لکھا گیا ہے وہ اسی ضرورت کے ماتحت ظاہر ہوا ہے۔بے شک کان موجود تھی مگر پہلے جس چیز کی ضرورت نہیں تھی وہ حکمت الٰہی کے ماتحت پوشیدہ رہی اور اس وقت ظاہر ہوئی جب زمانہ کو اس کی ضرورت تھی۔علوم کی ترقی میں ہمیشہ ایک قدم کے بعد دوسرا قدم اٹھتا ہے اور وہ دوسرا قدم ہمیشہ آگے کی طرف اٹھتا ہے۔پیچھے کی طرف نہیں جاتا۔ایک ماں بچے کو اٹھا کر دس میل چلتی ہے لیکن باجود اس کے کہ ماں طاقتور ہوتی ہے اور بچہ کمزور، ماں کے پاؤں میں چلتے چلتے چھالے پڑ جاتے ہیں پھر بھی اگر دس میل کے بعد بچہ دو قدم بھی چلے گا تو آگے ہی جائے گا پیچھے نہیں جائے گا۔لیکن ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ وہ ماں سے بڑھ گیا۔اسی طرح بعض دفعہ کم علم والاپہلوں سے زیادہ دلائل اخذ کر لیتا ہے کیونکہ علم ہمیشہ بڑھتا رہتا ہے اور قرآن کریم میں سے نئے سے نئے معارف ہر زمانہ کی ضرورت کے مطابق نکلتے رہتے ہیں۔پس یہ بھی نہیں کہا جا سکتا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام پر یہ معنے کیوں کھلے۔یہ سوال بھی بعض لوگوں کے دلوں میں پیدا ہو سکتا ہے کہ لَیَالٍ عَشْرٍ کو نکرہ کے طور پر کیوں بیان کیا گیا ہے یہ بحث ایسی ہے جو پرانے مفسرین نے بھی اٹھائی ہے کہ یہاں وَلَیَالٍ عَشْرٍ کی بجائے وَاللَّیَالِی الْعَشْـرِ کہنا چاہیے تھا اسے نکرہ کیوں بیان کیا ہے۔اس کا جواب انہوں نے یہ دیا ہے کہ جو بالکل درست ہے کہ خدا تعالیٰ نے اسے نکرہ کے طورپر اس لئے بیان کیا ہے تاکہ ان لیالی کی عظمت کی طرف اشارہ کیا جائے۔عربی زبان میں تنوین کئی اغراض کے لئے آتی ہے۔بعض دفعہ تنوین تنکیر کے لئے استعمال کی جاتی ہے اور بعض دفعہ کسی چیز کی عظمت بیان کرنے کے لئے۔عظمت سے یہ مراد نہیں کہ وہ چیز ضرور اچھی ہو بلکہ اچھی یا بری جس شق میں بھی کوئی چیز بڑی ہو اس کے لئے تنوین آ جائے گی۔مثلاً ظلم بڑا ہو یا انعام بڑا ہو تو دونوں کا تنوین سے ذکر کیا جائے گا(تفسیر الکشاف زیر آیت وَلَیَالٍ عَشْرٍ)۔انہوں نے رمضان یا ذی الحجہ کی راتیں اس سے مراد لی ہیں کیونکہ وہ بڑی عظمت اور شان رکھنے والی ہیں لیکن جیسا کہ میں ثابت کر چکا ہوں اس سے یہ مراد نہیں بلکہ اس سے ظلم کے وہ دس مکی سال مراد ہیں جن کا احادیث سے بھی پتہ لگتا ہے اور تاریخ بھی گواہ ہے ان دس سالوں میں مسلمانوں پر بڑے بڑے مظالم کئے گئے اور انہیں طرح طرح کے دکھ دیئے گئے یہاں تک کہ دو دفعہ صحابہؓ حبشہ کی طرف ہجرت کر کے گئے اور ایک دفعہ انہوں نے مدینہ کی طرف ہجرت کی۔گویا علاقوں کے لحاظ سے دو اور تعداد کے لحاظ سے تین ہجرتیں انہیں کرنی پڑیں۔پس چونکہ ان دس راتوں میںکفار مکہ کی طرف سے مسلمانوں پر شدید مظالم ہونے والے تھے اس لئے ان