تفسیر کبیر (جلد ۱۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 203 of 405

تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 203

تو کیا یہ ممکن تھا کہ باوجود اس کے کہ ساری قوم ہمارے ساتھ تھی پھر بھی ہمیں ذلیل ہونا پڑتا اور آپ سب کے مقابلہ میں کامیاب ہو جاتے۔آپ کی اس کامیابی کو دیکھنے کے بعد اب کوئی شخص شرک کر ہی کس طرح سکتا ہے کہ آپ یہ اقرار لے رہے ہیں کہ ہم شرک نہیں کریںگی۔تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے غلبہ اور آپ کی کامیابی کا اس وقت اتنا اثر تھا کہ دوسری باتوں کی طرف لوگوں کی توجہ ہی نہ ہوتی تھی۔قرآن کریم تو ہر زمانہ کے لئے ہے اور یہ لازمی بات ہے کہ جب وہ ہر زمانہ کے لئے ہے تو ہر زمانہ میں اس سے نئے سے نئے معارف نکلتے آئیں گے۔یہی موٹی بات لے لو کہ شَهِدَ شَاهِدٌ مِّنْۢ بَنِيْۤ اِسْرَآءِيْلَ (الاحقاف:۱۱) کے ماتحت بعد کے مفسرین تورات کی ان پیشگوئیوں کو بیان کرتے ہیں جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق اس میں موجود تھیں مگر خود صحابہؓ کا خیال اس طرف نہیں گیا (الفرقان فی تفسیر القرآن زیر آیت قُلْ اَرَءَيْتُمْ اِنْ كَانَ مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ وَ كَفَرْتُمْ بِهٖ وَشَهِدَ شَاهِدٌ)۔وہ سمجھتے تھے ہمیں گذشتہ پیشگوئیوں کی ضرورت نہیں ہمارے لئے یہی دلیل آپ کی سچائی کی کافی ہے کہ آپ اکیلے اٹھے، بےسروسامانی کی حالت میں اٹھے، مخالف حالات میں اٹھے اور پھر ساری دنیا پر غالب آگئے۔لیکن جوں جوں زمانہ گذرتا گیا وہ نشان جو پہلے لوگوں کے دلوں کو مطمئن کر دیا کرتے تھے کافی نہ رہے اور ضرورت محسوس ہوئی کہ نئے نشانات کو قرآن کریم میں سے تلاش کیا جائے چنانچہ نئے نشانات تلاش کئے گئے اور پھر ان پر زیادہ زور دیا جاتا رہا۔پس بات یہ ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہؓ کو اس قسم کے دلائل کی ضرورت ہی نہیں تھی گو قرآن کریم میں ان کا ذکر موجود تھا لیکن چونکہ ہمیں اس بات کی ضرورت تھی کہ ہم اپنے زمانہ کے لوگوں کے لئے قرآن کریم میں سے نشانات تلاش کریں۔اس لئے جب ہم نے اس نقطۂ نگاہ سے قرآن کریم پر غور کیا تو ہم پر نئے مطالب کھل گئے گویا پہلے لوگوں کے لئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت کا ایک بیّن اور ظاہر اور واضح نشان یہ تھا کہ لوگوں نے آپ کو مارنا چاہا مگر مار نہ سکے، انہوں نے کچلنا چاہا مگر کچل نہ سکے، انہوں نے آپ کو مغلوب کرنا چاہا مگر آپ غالب آ گئے۔اس عظیم الشان نشان کے بعد انہیں آپ کی صداقت کے متعلق کسی مزید دلیل کی ضرورت نہیں تھی۔اسی طرح اسلام کی تعلیم یہودیت، مسیحیت،مجوسیت وغیرہ کے مقابلہ میں اتنی واضح اور اتنی شاندار تھی کہ وہ علیٰ وجہ البصیرت اس بات پر یقین رکھتے تھے کہ جس قسم کے انصاف اور عدل اور محبت اور بدیوں سے بچنے کے احکام اسلام میں پائے جاتے ہیں اور کسی مذہب میں نہیں پائے جاتے اس لئے وہ ضرورت ہی نہیں سمجھتے تھے کہ اور باتوں کی طرف توجہ کریں یا اسلام کی صداقت کے متعلق گذشتہ مذاہب کی پیشگوئیوں کو تلاش کریں۔مفسرین نے یہ پیشگوئیاں لکھی ہیں مگر اسی وقت جب اسلام عیسائی ممالک میں پہنچا چونکہ اس وقت وہ