تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 202
دوسرے وقت آپ کی جان محفوظ نہ ہوتی۔آپ گئے اور غارِ ثور میں پناہ گزیں ہو گئے اس وقت جب کفار تعاقب کرتے ہوئے غارثور تک پہنچے تو ان کا ارادہ یہی تھا کہ آپ کو ڈھونڈ کر نکالا جائے مگر آپ وہاں سے بھی بچ کر نکل گئے اور اس طرح اثبات، قتل اور اخراج تینوں تدابیر میں ان کو ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا۔یہ دوسرے معنے دوسرے درجہ پر ہیں ورنہ میں ترجیح پہلے معنوں ہی کو دیتا ہوں۔اب پیشتر اس کے میں اس پیشگوئی کے دوسرے ظہور کو بیان کروں ایک سوال کا جواب دے دیتا ہوں جو بعض لوگوں کے دلوں میں پیدا ہو سکتا ہے اور وہ یہ کہ یہ معنے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ہی صحابہؓ پر کیوں نہ کھل گئے تاکہ اس زمانہ کے کفار پر حجت تمام ہو جاتی؟ سورۂ فجر کی پہلی چار آیات کی کی ہوئی تفسیر کے متعلق دو اعتراضات کا جواب اس سوال کے متعلق یہ امر یاد رکھنا چاہیے کہ جہاں تک حجت کا سوال ہے آج بھی ان معنوں کو پیش کر کے منکرین اسلام پر حجت تمام کی جا سکتی ہے اور انہیں اسلام اور قرآن کی صداقت کا قائل کیا جا سکتا ہے۔قرآن کسی ایک زمانہ کے لئے نہیں بلکہ ہر زمانہ کے لئے ہے۔آج دنیا میں جو لوگ اسلام کے مخالف پائے جاتے ہیں جو پیشگوئیوں کے قائل نہیں۔جو اسلام کو جھوٹا مذہب تصور کرتے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت کا انکار کرتے ہیں ان کے سامنے بھی اگر ان پیشگوئیوں کو رکھا جائے تو یقیناً یہ پیشگوئیاں ان پر حجت ہوں گی اور اگر وہ انصاف اور دیانتداری سے کام لیں گے تو انہیں اسلام کی صداقت کا قائل ہونا پڑے گا۔باقی رہا یہ سوال کہ یہ معنے پہلے کیوں نہ کھلے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ ہر زمانہ کے لحاظ سے مختلف قسم کے ہتھیار کام آیا کرتے ہیں یہ ضروری نہیں ہوتا کہ جو ہتھیار اس زمانہ میں کام آرہا ہو اس کے متعلق یہ اصول قرار دے دیا جائے کہ وہ پہلے زمانہ میں بھی ہونا چاہیے تھا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں آپ کی کامیابی اپنی ذات میں اتنا بڑا نشان تھا کہ صحابہؓ کو کسی اور طرف توجہ ہی نہیں ہوتی تھی چنانچہ تاریخی شواہد اس بارہ میں موجو د ہیں۔جب مکہ فتح ہوا تو ہند (زوجہ ابوسفیان)کے خلاف سزا کا اعلان تھا۔لیکن وہ چوری چھپے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں آئی اور آپ کی بیعت میں شامل ہو گئی۔(السیرۃ الحلبیۃ ذکر فتح المکۃ) وہ چادر اوڑھ کر اور دوسری عورتوں میں شامل ہو کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کے لئے آگئی تھی بیعت لیتے لیتے جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک موقعہ پر فرمایا کہ کہو ہم شرک نہیں کریں گی تو ہند (زوجہ ابوسفیان) اس کو برداشت نہ کر سکی اس کی طبیعت تیز تھی وہ فوراً بول اٹھی کہ یا رسول اللہ کیا ہم اب بھی شرک کریں گی۔آپ اکیلے تھے اور ہم سب کے سب اکٹھے آپ کے مقابلہ میں کھڑے تھے اگر ان بتوں میں کوئی بھی طاقت ہوتی