تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 201
رعب بالکل مٹ گیا تھا اور اب وہ مسلمانوں کو ترنوالہ نہیں سمجھتے تھے بلکہ اس حقیقت کابر ملا اظہار کرتے تھے کہ مسلمانوں کا مقابلہ کرنا آسان بات نہیں۔پس اس پیشگوئی میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے آئندہ حالات بیان کئے گئے ہیں اور وہ سارے واقعات جن کا اس جگہ پر ذکر ہے قرآن کریم میں نام لے لے کر بیان کر دیئے گئے ہیں بلکہ آخری تین حصے وَالشَّفْعِ وَالْوَتْرِ۔وَالَّیْلِ اِذَا یَسْرِ تو اکٹھے ایک ہی جگہ وَاِذْیَمْکُرُ بِکَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا لِیُثْبِتُوْکَ اَوْ یَقْتُلُوْکَ اَوْیُخْرِجُوْکَ میں بیان کر دیئے گئے ہیں۔میں اوپر بیان کر چکا ہوں کہ ترتیب تین قسم کی ہوتی ہے۔ایک وہ ترتیب ہوتی ہے جس میں مضمون نیچے سے اوپر کو جاتا ہے۔دوسری ترتیب وہ ہوتی جس میں مضمون اوپر سے نیچے کی طرف آتا ہے اور تیسری ترتیب مثلّث کی سی ہوتی ہے کہ چوٹی کی بات کو درمیان میں بیان کر دیا جاتا ہے اور اس سے چھوٹی باتوں کو دائیں بائیں رکھ دیا جاتا ہے۔میں نے بتایا تھا کہ لِیُثْبِتُوْکَ اَوْ یَقْتُلُوْکَ اَوْیُخْرِجُوْکَ میں یہی مثلّث کی ترتیب پائی جاتی ہے کہ قتل جو سب سے اہم چیز تھی اس کا اللہ تعالیٰ نے درمیان میں ذکر کر دیا اور اثبات اور اخراج جو اس سے ادنیٰ درجہ کی چیزیں تھیں ان کو دائیں بائیں بیان کر دیا لیکن اس کے علاوہ مندرجہ بالا آیت میں ایک اور ترتیب بھی ہے جو سیدھی چلی جاتی ہے اور وہ یہ کہ اس جگہ کفار کے مشوروں کے لحاظ سے اثبات، قتل اور اخراج کا ذکر نہیں یعنی یہ مطلب نہیں کہ انہوں نے پہلے قید کا مشورہ کیا ہو پھر قتل کا اور سب سے آخر میں اخراج کا کیونکہ ان کا آخری فیصلہ قتل پر ہوا تھا نہ کہ اخراج پر۔بلکہ ان امور کا ذکر وقوعہ کی ترتیب کے لحاظ سے ہوا ہے۔مثلاً سب سے پہلے کفار رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مکان پر گئے اور انہوں نے رات کے وقت اس کے اردگرد گھیرا ڈال لیا اور اپنے نقطۂ نگاہ سے انہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کو قید کر لیا۔اس لحاظ سے اللہ تعالیٰ نے اثبات یعنی قید کا ذکر پہلے فرمایا ہے اس کے بعد جب آپ ہجرت کے ارادہ سے اپنے مکان میں سے نکلے اور ان کے پاس سے گذرے تو ان کے لئے موقع تھا کہ وہ آپ کو قتل کر دیتے کیونکہ وہ اسی نیت اور اسی ارادہ کے ماتحت اکٹھے ہوئے تھے پس واقعات کے لحاظ سے چونکہ دوسرا نمبر قتل کے امکان کا تھا اس لئے اللہ تعالیٰ نے اثبات کے بعد قتل کا ذکر کر دیا اور بتایا کہ باوجود قتل کا ارادہ رکھنے کے وہ ناکام رہے اور آپؐکو قتل کرنے میں کامیاب نہ ہو سکے۔اس کے بعد اخراج کا واقعہ ہوا اور گو یہ ان کے مظالم کی وجہ سے ہی ہوا مگر جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے دوسری جگہ بیان فرمایا ہے کہ كَمَاۤ اَخْرَجَكَ رَبُّكَ مِنْۢ بَيْتِكَ بِالْحَقِّ(الانفال:۶) یعنی آپ کو نکالنے والا دراصل خدا تعالیٰ تھا۔اس لئے کہ اگر آپ اس وقت نہ نکلتے تو