تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 200
میں ایک ایسی جنگ ہو گی جس میںقیدار کی ساری حشمت خاک میں مل جائے گی اور وہ جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر بھاگ جانے کا الزام لگاتے تھے اپنے لاؤ لشکر کی موجودگی میں پیٹھ دکھائیں گے اور وہ بھی ایسی حالت میں کہ کمانڈر اور ان کے جرنیلوں کی لاشیں میدان جنگ میں پڑی رہ جائیں گی۔اور آخر وادئ مکہ اپنے جرنیلوں کو کھو کر اپنی اس شوکت کو بالکل کھو بیٹھے گی جو اس سے پہلے سے حاصل تھی۔اسی طرح قرآن کریم نے ایک گیارھویں رات کی خبر دے کر یہ پیشگوئی کی تھی کہ ہجرت کے پورے ایک سال کے بعد کفار کی ساری طاقت ٹوٹ جائے گی اور مسلمانوں کے لئے فتح اور کامرانی کی صبح ظاہر ہو جائے گی۔چنانچہ عین ایک سال کے بعد جنگ بدر ہوئی جس میں کفار کے بڑے بڑے لیڈر مارے گئے اور مسلمانوں کو ان پر نمایاں غلبہ حاصل ہوا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ سے ہجرت کے لئے دعویٰ نبوت کے تیرھویں سال ربیع الاوّل کے مہینہ میں نکلے تھے(السیرۃ النبویۃ لابن ہشام زیرعنوان تاریـخ الھجرۃ) قاعدہ یہ ہے کہ سال کا بقیہ حصہ اسی سال میں شمار ہوتا ہے نئے سال میں شمار نہیں ہوتا اس لحاظ سے بقیہ چھ ماہ تیرہ سالہ مدت میں ہی شامل کرنے پڑیں گے۔ورنہ دراصل مکہ میں مسلمانوں پر منظم حملوں کا عرصہ ساڑھے نو سال بنتا ہے۔دسویں سال ربیع الاوّل میں آپ ہجرت کے لئے چل پڑے تھے مگر عام معروف قاعدہ کے مطابق بقیہ نصف سال اسی مکی زندگی کے تیرہ سالہ دَور میں شمار ہو گا اور نئے سال کا رمضان سے آغازسمجھا جائے گا۔کیونکہ رمضان سے ہی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کا سال شروع ہوتا ہے۔اب دیکھ لو مدینہ میں آنے کے بعد پہلے رمضان تک اس پیشگوئی پر دس سال پورے ہوئے تھے اور رمضان سے گیارھویں سال کا آغاز ہوا تھا۔اس ایک سال کے گذرنے پر دوسرے سال ۱۷؍رمضان کو بدر کی جنگ ہوئی (الکامل لابن اثیرزیر عنوان غزوۃ البدر الکبرٰی ) جس میں بڑے بڑے کفار مارے گئے اور ان کے ظالمانہ حملوں کا خاتمہ ہو گیا گویا وہ گیارہویں لَیْل جو مسلمانوں پر آئی ہوئی تھی ٹھیک ایک سال گذرنے کے بعد دور ہو گئی۔اور مسلمانوں نے فتح و کامرانی کی صبح کو اللہ تعالیٰ کے فضل اور اس کی تائید اور نصرت کے ساتھ دیکھ لیا۔یہ ہے وہ مفہوم جو ان آیات قرآنیہ کا اللہ تعالیٰ نے مجھے سمجھایا اور جس کا ایک ایک ٹکڑہ اسلامی تاریخ اور قرآنی حوالوں سے ثابت ہے کوئی شخص اس بات سے انکار نہیں کر سکتا کہ مسلمانوں پر دس تاریک راتیں آئیں اور پھر ان تاریک راتوں کے گذرنے پر ہجرت کی صورت میں فجر کی ایک شعاع ظاہر ہوئی اس کے بعد شفع اور وتر کا واقعہ ہوا اور آخر میں پھر ایک گیارہویں رات آئی جو اللہ تعالیٰ کے وعدہ کے مطابق پورے ایک سال کے بعد گذر گئی اور قیدار کی ساری حشمت خاک میں ملا دی گئی اس کے بعد بے شک جنگیں ہوئی ہیں مگر جنگِ بدرکے بعد کفار کا