تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 196
وہ ضرور اپنے مشورہ پر فخر کرتے ہوں گے اور کہتے ہوں گے اگر قید کر لیتے تو یہ ناکامی تمہیں نہ دیکھنی پڑتی۔اللہ تعالیٰ نے کہا بہت اچھا تم قید کر کے بھی دیکھ لو پھر بھی خدا تعالیٰ تمہیں ناکام کرے گا چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر ؓ دونوں جب مکہ میں سے نکلے تو غارثور میں جا کر چھپ گئے۔کفار کو جب علم ہوا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کہیں باہر چلے گئے ہیں تو وہ تعاقب کرتے ہوئے غارثور کے منہ پر پہنچ گئے اور وہاں انہوں نے ڈیرہ ڈال دیا۔کھوجی ان کے ساتھ تھا اس نے کہا کہ بس یہیں تک نشانات پہنچتے ہیں اب یا تو محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) یہیں کہیں چھپا ہوا ہے اور اگر یہاں نہیں تو پھر وہ آسمان پر چڑھ گیا ہے۔عرب لوگ کھوجیوں کی بات پر بڑا اعتبار کیا کرتے تھے اور وہاں کے کھوجی اپنے فن میں بہت ماہر ہوا کرتے تھے۔ہمارے ملک میں بھی ایسے کھوجی ہوتے ہیں جو بعض دفعہ چوری کا سراغ لگا لیتے ہیں مگر ہمارے کھوجی بہت ادنیٰ ہوتے ہیں۔عرب کے کھوجی وہاں کے خاص حالات کے ماتحت بہت اعلیٰ درجہ کی مہارت رکھتے تھے چنانچہ وہ کھوجی جسے مکہ والے ساتھ لے گئے تھے اس نے صاف صاف کہہ دیا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اسی جگہ معلوم ہوتے ہیں۔لوگوں نے کہا یہاں چھپنے کی کون سی جگہ ہے؟ اس نے کہا اگر یہاں نہیں ہیں تو پھر آسمان پر چلے گئے ہیں۔اس کی یہ بات سن کر سب ہنسنے لگ گئے اور کہنے لگے کہ ہمارا کھوجی تو آج پاگل ہوگیا ہے کیسی بہکی بہکی باتیں کر رہا ہے۔بھلا یہ بھی کوئی چھپنے کی جگہ ہے اس غار کے منہ پر درخت کی شاخیں جھکی ہوئی ہیں اور ان پر مکڑی کا جالا بنا ہوا ہے اگر وہ اندر جاتے تو جالا نہ ٹوٹ جاتا یہ اللہ تعالیٰ کا ایک نشان تھا جو اس نے دکھایا۔مکڑی منٹوں میں جالا تن لیتی ہے میں نے خود اسے ایک بڑا جالا دو تین منٹ میں بُنتے ہوئے دیکھا ہے۔اللہ تعالیٰ نے ایسا سامان کیا کہ مکڑی نے شاخوں پر جالا بُن دیا اور ان لوگوں کا ذہن ادھر نہ گیا کہ یہ جالا تھوڑی دیر میں بھی بنایا جا سکتا ہے۔غرض کفار تو آپس میں یہ گفتگو کر رہے تھے اورادھر چند گز کے فاصلہ پر ابوبکرؓ غار ثور میں گھبرا رہے تھے اس لئے نہیں کہ ان کواپنی زندگی کو خطرہ تھا بلکہ اس لئے کہ انہیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق فکر لاحق ہوگیا تھا ورنہ یہ خیال درست نہیں کہ انہیں اس وجہ سے فکر ہوا کہ کہیں میں پکڑا نہ جاؤں۔حدیثوں میں ذکر آتا ہے انہوں نے خود اس وقت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ یارسول اللہ! اگر میں مارا گیا تو دنیا میں صرف ایک آدمی مارا جائے گا اس سے زیادہ میری موت کی کوئی اہمیت نہیں ہو گی لیکن یا رسول اللہ اگر آپ مارے گئے تو اسلام مارا جائے گا۔جب حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو یہ گھبراہٹ پیدا ہوئی تو اس وقت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’لَا تَحْزَنْ اِنَّ اللّٰهَ مَعَنَا ‘‘