تفسیر کبیر (جلد ۱۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 16 of 405

تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 16

تفسیر۔فرماتا ہے یہ قرآن قول فصل ہے یعنی اس کے نزول کے بعد تمہاری شکست میںکوئی روک نہیں ہوسکتی یا قول فصل سے مراد یہ ہے کہ یَفْصِلُ بَیْنَ الْـحَقِّ وَالْبَاطِلِ یعنی یہ قرآن حق اور باطل میں فرق کر دے گا۔یہ نہیں ہو سکتا کہ اس کے آنے کے بعد بھی حق اور باطل میں فرق پیدا نہ ہو۔یا ضمیر موعود کی طرف جاتی ہے اور مراد یہ ہے کہ ممکن نہیں کہ وہ موعود آئے اور دنیا میں مذکورہ بالا تغیرات نہ ہوں۔یہ ایک قطعی اور حتمی امر ہے جس کا فیصلہ کیا جا چکا ہے۔وَمَا ھُوَ بِالْھَزْلِ یہ کمزور اور بے فائدہ بات نہیں۔اِنَّهُمْ يَكِيْدُوْنَ كَيْدًاۙ۰۰۱۶وَّ اَكِيْدُ كَيْدًاۚۖ۰۰۱۷ وہ لوگ یقیناً (اس کے خلاف) خوب داؤ پیچ کریں گے۔اور میں بھی (اس کے خلاف) خوب تدبیریں کروں گا۔تفسیر۔یہاں پھر اس مضمو ن کو دہرا دیا گیا ہے۔جو پچھلی تین چار سورتوں سے پہلے بیان ہو رہا تھا۔پہلی سورتوں میں یہ بتایا گیا تھا کہ اسلام بہت بڑی ترقی حاصل کرے گا اور تمام دنیا میں پھیل جائے گا۔کفّار کے منصوبے دھرے رہ جائیں گے۔ان کی کوششیں اکارت جائیں گی اور اسلام بڑھتے بڑھتے دنیا کے کناروں تک پہنچ جائے گا۔اس کے بعد یہ بتایا گیا تھاکہ اسلام پر ایک تنزّل کا دَور آئے گا اور پھر یہ بتایا گیا تھا کہ اس تنزّل کے بعد پھر اسلام کی ترقی کا زمانہ آئے گا اور کفر کو تباہ کیا جائے گا۔یہ تمام ذکر کرنے کے بعد فرماتا ہے اِنَّھُمْ یَکِیْدُوْنَ کَیْدًا۔وَّ اَکِیْدُ کَیْدًا۔دیکھو ہم نے اسلام کی ساری ہسٹری بتا دی ہے کہ کس طرح اسلام غالب ہو گا پھر کس طرح اس میں کمزوریاں پیدا ہوں گی اور پھر کس طرح اس دَورِ تنزّل کے بعد ہم اسلام اور مسلمانوں کی ترقی کا سامان کریں گے اور پھر اس مذہب کو دنیا پر غالب کر کے دکھا دیں گے یہ ایک لمبا سلسلہ جو ہم نے بتایا ہے کیا مکہ کے لوگ اتنی بڑی زنجیر کو توڑ دیں گے اور کیا یہ اپنے ناپاک ارادوں میں کامیاب ہو جائیں گے۔اس نے تو ابھی بڑھنا ہے پھر گھٹنا ہے۔پھر بڑھنا ہے اور دنیا پر غالب آنا ہے اور مکہ کے لوگ اس خیال میں بیٹھے ہیں کہ وہ اپنی تدبیروں سے اسلام کو مٹا دیں گے۔اِنَّھُمْ یَکِیْدُوْنَ کَیْدًا وہ بھی تدبیریں کرتے ہیں وَ اَکِیْدُ کَیْدًا اور میں بھی تدبیریں کروں گا۔