تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 187
اس بات کا ثبوت کہ مسلمانوں کی اصل مخالفت دعویٰ نبوت کے چوتھے سال شروع ہوئی یہ ایک ثابت شدہ حقیقت ہے کہ یہ سورۃ تیسرے سال کے آخر یا چوتھے سال کے شروع کی ہے اور مکہ والوں کی طرف سے منظم مخالفت چوتھے سال میں شروع ہوئی ہے اسلامی تاریخ اس پر متفق ہے اور یوروپین مصنّف بھی گو اسلام کے دشمن ہیں مگر تاریخی اعتبار سے یہ گواہی دینے پر مجبور ہوئے ہیں چنانچہ میور لکھتا ہے۔"It was not however till three or four years of his ministry had elapsed that any general opposition to Mohammad was organised۔" (The Life of Mahomet by Sir William Muir P:68) یعنی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت آپ کے دعویٰ کے تین چار سال بعد تک منظم صورت میں ظاہر نہیں ہوئی۔آرگنائزڈ اور منظم مخالفت جس میں تمام قوم آپ کے خلاف کھڑی ہو گئی اور چھوٹوں بڑوں سب نے مل کر اسلام کو مٹانا چاہا وہ دعویٰ کے ابتدائی تین چار سالہ دَور میں نظر نہیں آتی۔آرگنائزڈ مخالفت جیسا کہ نَاصِبَۃٌ کی تشریح میں بتایا جا چکا ہے یہ ہوتی ہے کہ باقاعدہ افسر مقرر کئے جاتے ہیں۔مختلف لیڈر کھڑے کئے جاتے ہیں اور ان سب سے کہا جاتا ہے کہ تم نے مل کر حملہ کرنا ہے اس قسم کی منظم مخالفت میور کے نزدیک ابتدائی تین چار سالوں میں شروع نہیں ہوئی۔پھر لکھتا ہے:۔"Even after he had begun publicly to summon his fellow citizens to the faith, and his followers had multiplied the people did not gainsay his doctrine۔" (The Life of Mahomet by Sir William Muir P:68) اس وقت کے بعد بھی کہ آپ نے اعلانیہ اہلِ شہر کو دعوت اسلام دینی شروع کی اور باوجود اس کے کہ آپ پر ایمان لانے والے بڑھنے لگ گئے تھے لوگ آپ کی بات کی تردید کی ضرورت نہ سمجھتے تھے۔یہ خیال ہو سکتا تھا کہ جب چند آدمی آپ کو مان چکے تھے اور آپ کے دعویٰ کو تسلیم کر چکے تھے تو بہرحال لوگوں میں آپ کے خلاف جوش پیدا ہو چکا ہو گا بالخصوص اس وجہ سے کہ آپ نے لوگوں میں وعظ شروع کر دیا تھا اور لوگوں کو اپنے مذہب کی تلقین شروع کر دی تھی۔مگر میور لکھتا ہے یہ خیال درست نہیں باوجود اس کے کہ انہوں نے