تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 184
اور وہ آ کر پہلے بیماری کی تفاصیل نہیں شروع کر دے گا بلکہ مثلاً یوں کہے گا کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے اب اچھے ہیں بیچ میں تو خطرہ پیدا ہو گیا تھا۔یہ نہیں ہوتا کہ وہ پہلے تفصیلی حالات بیماری کی تکالیف کے سنانے لگ جائے اور اس کی خیریت کے متعلق بعد میں جا کر خبر دے۔چنانچہ اُحد کے موقع پر جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شہادت کی خبر لوگوں میںمشہور ہوئی اور مدینہ سے عورتوں اور بچوں کا ایک گروہ اُحد کے میدان کی طرف چل پڑا تو اس وقت اسلامی لشکر واپس آ رہا تھا ایک عورت بے تابانہ آگے بڑھی اور اس نے ایک مسلمان سپاہی سے دریافت کیا بتاؤ رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کا کیا حال ہے؟ اس نے بجائے اس کے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خیریت کی خبر اسے دے یہ جواب دیا کہ تمہارا خاوند اس جنگ میں مارا گیا ہے۔اس نے کہا میں تم سے اپنے خاوند کی خبر دریافت نہیں کر رہی پہلے یہ بتاؤ کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا کیا حال ہے؟ اور جب اس نے کہا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم خیریت سے ہیں تو عورت خوشی سے بول اٹھی کہ اگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم خیریت سے ہیں تو پھر مجھے اپنے کسی غم کی پروا نہیں ہے(السیرۃ النبویۃ لابن ہشام غزوۃ احد) تو دیکھ لو اس عورت نے خوشی کی خبر پہلے سننی چاہی اور غم کی بعد میں۔اس نے سمجھا کہ اگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم زندہ ہیں تو میرا دل اس خوشی کی خبر کی وجہ سے اور صدمات کو برداشت کر سکتا ہے لیکن اگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم زندہ نہیں تو پھر میرا دل کسی صدمہ کو برداشت نہیں کر سکتا۔توقاعدہ یہی ہے کہ جب خوشی اور غم کسی خبر کا جزو ہوں تو پہلے خوشی کی خبر سنائی جاتی ہے تا کہ غم کی خبر زیادہ تکلیف نہ دے۔پس چونکہ خوشی کی خبر پہلے بیان کی جانی تبشیر کے موقع پر زیادہ مناسب ہوتی ہے اس لئے بجائے یوں کہنے کے کہ ہم دس راتوں اور ان کے بعد کی فجر کو بطور شہادت بیان کرتے ہیں یہ فرمایا کہ ہم فجر اور اس سے پہلے آنے والی دس راتوں کو بطور شہادت بیان کرتے ہیں۔اگر پہلے ہی دس راتوں کا ذکر کر دیا جاتا تو مسلمان اس خبر کو سن کر کانپ اٹھتے ان کے دل لرز جاتے اور وہ سخت فکر اور غم میں مبتلا ہو جاتے کہ نہ معلوم اب کیا بننے والا ہے۔اس لئے اللہ تعالیٰ نے بجائے یہ فرمانے کے کہ ہم دس راتوں اور ان کے بعد کی فجر کو بطور شہادت پیش کرتے ہیں یہ کہہ دیا کہ ہم فجر اور اس سے پہلے آنے والی دس راتوں کو بطور شہادت پیش کرتے ہیں اور اس کے بعد ہونے والے ایک شفع اور وتر کے واقعہ کو اور پھر اس کے بعد ایک رات کے چلے جانے یعنی صبح کو بطور شہادت پیش کرتے ہیں گویا بات تو وہی رہی مگر مومنوں کے دلوں کو تسلی ہو گئی کہ کسی خاص فکر کی ضرورت نہیں آخر نتیجہ ہمارے حق میں ہی نکلے گا چنانچہ اس خبر کو لَیَالٍ عَشْرٍ سے شروع کرنے کی بجائے وَالْفَجْرِ سے شروع کیا اور مسلمانوں کو بتایا کہ اب جو خبر