تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 180
دیتی ہے کہ اسے الگ کر کے بیان کیا ہے؟ پھر اس میں شفع اور وتر کا کیا سوال ہے کہ ان کا ذکر کیا گیا ہے؟ پھر وہ کون سی رات ہے جسے اِذَایَسْرِ کہا گیا ہے اور اس رات سے کیا شہادت نکلتی ہے؟ اور اگر آخری راتیں مراد ہیں پھر اَلْفَجْرِ سے کیا مراد ہے یعنی اگر پہلی دس راتیں مراد ہیں تو اَلْفَجْرِ سے کیا مراد ہے اور اگر آخری دس راتیں مراد ہے تو اَلْفَجْرِ سے کیا مراد ہے؟ اور اَلْفَجْرِ میں پہلی راتوں کی کسی فجر کا ذکر ہے یا آخری راتوں کی کسی فجر کا ذکر کیا ہے؟ آخری یا پہلی راتیں مراد لینا تو پھر بھی ایک معقول بات ہے۔کیونکہ پہلی راتیں رمضان کے شروع کی ہیں اور دوسری راتیں رمضان کے اختتام کی۔ایک کی یہ عظمت بیان کی جا سکتی ہے کہ ان سے رمضان کا مبارک مہینہ شروع ہوتا ہے اور دوسری راتوں کی یہ عظمت بیان کی جا سکتی ہے کہ ان پر رمضان کا اختتام ہوتا ہے اور اس وجہ سے وہ خاص اہمیت رکھتی ہیں۔مگر سوال یہ ہے کہ ان راتوں کی کون سی فجر ایسی خصوصیت رکھتی ہے کہ اس کی قسم کھائی گئی ہے اور جس سے دشمن پر حجت تمام کی جا سکتی ہے اور اسے خدا تعالیٰ کی قدرت کا قائل کیا جا سکتا ہے۔بعض لوگ کہتے ہیں کہ اس جگہ فجر سے لیلۃ القدر کی فجر مراد ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے هِيَ حَتّٰى مَطْلَعِ الْفَجْرِ(القدر:۶) لیلۃ القدر مطلعِ فجر تک ہوتی ہے(بیان القرآن مولوی محمد علی صاحب سورۃ الفجر)۔مگر سوال یہ ہے کہ لیلۃ القدر مبارک ہوتی ہے نہ کہ اس کی فجر۔فجر کو تو وہ برکات ختم ہو جاتی ہیں پھر اس وقت کی قسم کیوں کھائی گئی ہے؟ کیا یہ تعجب کی بات نہیں کہ جو مبارک چیز تھی یعنی لیلۃ القدر اس کا تو ذکر ہی نہیں کیا اور جس میں کوئی خاص بات نہ تھی یعنی فجر اسے بیان کر دیا۔حالانکہ اس سے کسی خاص مبارک وقت کی طرف اشارہ پایا ہی نہیں جاتا۔پھر سوال یہ ہے کہ ان دس راتوں میں سے وتر کس امر کی طرف اشارہ کرتا ہے اور شفع کس امر کی طرف اشارہ کرتا ہے؟ وہ کہتے ہیں کہ وتر سے مراد یہاں لیلۃ القدر ہے کیونکہ لیلۃ القدر وتر رات میں آتی ہے لیکن سوال یہ ہے کہ یہاں وتر کے ساتھ شفع کابھی ذکر آتا ہے۔یہاں صرف یہ نہیں کہا گیا کہ ہم ایک وتر کو شہادت کے طور پیش کرتے ہیں بلکہ وتر اور شفع دونوں کو اکٹھا بطور شہادت پیش کیا گیا ہے اگر وتر سے مراد رمضان کے آخری عشرہ کی وتر راتیں مراد ہیں اور شفع سے مراد آخری عشرہ کی جفت راتیں۔تو شفع کے لحاظ سے پانچ راتیں مبارک ہوں گی اور وتر کے لحاظ سے بھی پانچ مبارک ہوں گی یا کبھی دس کی بجائے صرف نو راتیں بھی ہو سکتی ہیں۔بہرحال جب دس راتوں میں سے پانچ شفع اور پانچ وتر ہیں یا چار شفع اور پانچ وتر ہیں۔تو یا تو شفع اور وتر سے ساری راتیں مراد ہوں گی اور یا پھر ان میں سے کوئی ایک وتر اور ایک شفع مراد ہو گی۔اگر یہ کہا جائے کہ وتر سے مراد صرف ایک وتر رات مراد ہے جو لیلۃ القدر ہوتی ہے تو شفع سے مراد بھی کوئی ایک ایسی جفت رات ہونی چاہیے جو خاص حیثیت رکھنے والی ہو مگر شفع کے معنے