تفسیر کبیر (جلد ۱۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 176 of 405

تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 176

اس سوال کے متعلق یہ یاد رکھنا چاہیے کہ بے شک آئندہ امور کی قسم قرآن کریم میں موجود ہے مگر وہ تمام واقعات ایسے ہیں جن سے علمِ غیب وابستہ تھا۔درحقیقت وہ پیشگوئیاں ہیں جو آئندہ زمانہ کے متعلق کی گئی تھیں اور پیشگوئی ایسی چیز ہے جو بندے کے اختیار میں نہیں ہوتی۔لیکن ایک پیر کا اپنے مرید کو کوئی حکم دے دینا اس کے اپنے اختیار کی بات ہے اور اس میں ہر گز علمِ غیب کا کوئی حصہ نہیں۔مثلاً تحریک جدید کا ہماری جماعت میں ۱۹۳۴ء سے آغاز ہوا ہے اگر میں اس تحریک کو شروع کرنے سے دو سال پہلے اعلان کر دیتا کہ ۱۹۳۴ء میں مَیں تحریک جدید جاری کروں گا اور جب ۱۹۳۴ء آتا تو تحریک جدید کو جاری کر کے کہتا کہ دیکھو یہ خدا تعالیٰ کا کتنا بڑا نشان ہے میں نے دو سال پہلے جو بات کہی تھی وہ پوری ہو گئی۔تو ہر شخص ہنسنے لگ جاتا کہ اس میں نشان کی کون سی بات ہے۔یہ تو اپنے اختیار کی چیز تھی کہ جب چاہا اپنے مریدوں کو حکم دے دیا اور جب چاہا نہ دیا۔یا مثلاً میں نے کئی دفعہ کہا ہے کہ فلاں وقت میں سات روزے رکھنے کے متعلق اعلان کر وں گا اور جب بھی وہ وقت آیا میں نے روزوں کے متعلق جماعت میں اعلان کر دیا۔اب کیا میرا قبل از وقت یہ کہنا کہ میں فلاں مہینہ میں روزے رکھنے کا حکم دوں گا اور پھر اس مہینہ کے آنے پر روزوں کا اعلان کر دینا اپنے اندر کوئی نشان رکھتا ہے کیا میں کہہ سکتا ہوں کہ یہ ایک معجزہ ہے جو ظاہر ہوا یا یہ ایک ایسا واقعہ ہے جس سے خدا کی ہستی کا ثبوت ملتا ہے۔اسی طرح اگر رمضان کے روزوں کے متعلق کہہ دیا گیا تھا تو اس میں کون سی ایسی بات ہو گئی جس سے کافروں پر حجت تمام کی جا سکتی ہے۔یہ تو ہمارا ایمان ہے کہ قرآن کریم میں جو کچھ لکھا ہے اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوا ہے مگر کافر تو اس بات کو نہیں مانتا وہ تو کہتا ہے کہ یہ سب باتیں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم نے خود اپنی طرف سے بنا کر لوگوں کے سامنے پیش کی ہیں اور جب کہ کفار قرآن کریم کو خدا تعالیٰ کا کلام مانتے ہی نہیں تو ان کے سامنے یہ بات بطور حجت کس طرح پیش کی جاسکتی ہے کہ بارہ سال بعد رمضان کے روزے فرض کئے جائیں گے اور اس کی دس راتیں بڑی اہمیت رکھیں گی۔ایک مخالف کہہ سکتا ہے کہ خود ہی بارہ سال پہلے ایک سکیم پیش کر دی گئی اور پھر خود ہی اس کے مطابق اعلان کر کے کہہ دیا کہ یہ خدا کا نشان ظاہر ہو گیا ہے۔اس میںنشان کی کون سی بات ہے ایسا تو ہر شخص کر سکتا ہے۔پس یہ بالکل غلط ہے کہ جس رنگ میں قرآن کریم نے آئندہ زمانہ میں رونما ہونے والے واقعات کی قسم کھائی ہے اسی رنگ میںرمضان کی راتوں کی قسم سمجھی جا سکتی ہے۔رمضان کے روزوں کا حکم دینا بندے کا اختیاری فعل ہے چند سال پہلے ہی اپنی کسی سکیم کا اعلان کر دینا اپنے اندر کوئی نشان نہیں رکھتا لیکن آئندہ زمانوں میں رونما ہونے والے واقعات کی خبر دینا جو انسان کے اختیار میں نہ ہوں یہ کام یقیناً کسی انسان کا نہیں ہو سکتا۔قرآن کریم