تفسیر کبیر (جلد ۱۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 168 of 405

تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 168

مخصوص نہیں ہو سکتیں حالانکہ یہاں شفع اور وتر سے پہلے دس راتوں کا ذ کر ہے۔حضرت ابن عباسؓ کی اس روایت سے استدلال کر کے جسے میں نے آخر میں بیان کیا ہے ایک حال کے مفسر نے وَالشَّفْعِ وَالْوَتْرِ کے معنے لیلۃ القدر اور دوسری راتوں کے کئے ہیں یا رمضان کی ان دس راتوں میںسے پہلی رات کے۔(بیان القرآن ترجمہ مولوی محمد علی سورۃ الفجر) ان آراء پر نظر ڈالنے سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارہ میں کوئی امر ثابت نہیں۔دوسرے خود صحابہؓ میں بھی سخت اختلاف ہے اور صاف معلوم ہوتا ہے کہ صرف اجتہاد پر تفسیر کی بنیاد رکھی گئی ہے صاحبِ شریعت سے کوئی امر ثابت نہیں اور پھر صحابہ کا اجتہاد بھی یقینی نہیں۔ایک ایک صحابی نے دو دو تین تین ایسے معنے کئے ہیں جو آپس میں بالکل متضاد ہیں۔کسی آیت کے دو دو بلکہ چار چار سو معنے کر لینا بھی بشرطیکہ وہ معنے ایک دوسرے کے متضاد نہ ہوں بلکہ مصدق ہوں بالکل جائز اور درست ہوتا ہے۔لیکن ایسے معنے کرنا کہ اگر ایک معنے مانے جائیں تو دوسرے معنے ردّ کرنے پڑیں۔دوسرے معنے تسلیم کئے جائیں تو تیسرے معنوں کو ناقابل قبول قرار دینا پڑے یہ اس امر کا ثبوت ہوتا ہے کہ خود معنے کرنے والے کے دل کو اطمینان نہیں ہوتا کبھی اس کا رجحان ایک معنوں کی طرف چلا جاتا ہے اور کبھی دوسرے معنوں کی طرف۔کبھی وہ سمجھتا ہے کہ یہ معنے درست معلوم ہوتے ہیں اور کبھی خیال کرتا ہے کہ وہ معنے درست معلوم ہوتے ہیں۔اسے اطمینان اور شرح صدر حاصل نہیں۔پس صحابہؓ نے اس بارہ میں جو کچھ اجتہاد کیا وہ قطعی نہیں۔چنانچہ ابن عمرؓ کا قول اس کا مصدق ہے۔آخر وہ بھی اس آیت کے کوئی معنے کرتے ہوں گے انہوں نے جب سنا کہ ایک شخص کہہ رہا ہے کہ یقینی اور قطعی طور پر لَیَالٍ عَشْرٍ سے مراد ذوالحجہ کی دس راتیں ہیں تو انہیں حیرت ہوئی کہ یہ شخص کیا کہہ رہا ہے اور کس بناء پر اس مفہوم کو یقینی سمجھ رہا ہے گو بعض لوگوں نے لکھا ہے کہ اکثر علماء سلف کا یہی قول تھا کہ لَیَالٍ عَشْرٍ سے ذوالحجہ کی دس راتوں کے سوا اور کوئی رات مراد نہیں مگر حضرت عبداللہ بن عمرؓ کا طلحہ بن عبداللہ سے یہ کہنا کہ میرے پاس آنا میں تمہیں شک ڈال دوں گا بتاتا ہے کہ اس بارہ میں جو کچھ کہا جا رہا تھا محض اجتہاد تک محدود تھا۔آخر حضرت عبداللہ بن عمرؓ دین کے منکر تو نہیں تھے کہ انہوںنے اسے یہ کہا ہو کہ میں اسلام کی صداقت کے متعلق تمہیں شکوک میں مبتلا کر دوں گا۔ان کا مطلب یہی تھا کہ تم جو یہ خیال کر رہے ہو کہ لَیَالٍ عَشْرٍ سے قرآن کریم نے یقینی طور پر ذوالحجہ کی دس راتوں کی طرف ہی اشارہ کیا ہے یہ درست نہیں۔اگر تمہیں اتنا ہی کامل یقین ہے تو میرے پاس آنا میں تمہیں شبہ ڈال دوں گا۔غرض ابنِ عمرؓ کا قول اس امر کا مصدق ہے کہ صرف اجتہاد پر اس آیت کی تفسیر کی بنیاد رکھی گئی تھی اسی طرح خود صحابہؓ اور تابعین کے شدید اختلافات بھی اس امر پر شاہد ہیں۔لیکن اس کے باوجود ایک شخص کہہ سکتا ہے کہ ہم نے