تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 167
حضرت ابن عمرؓ کی ایک روایت سے بھی ملتا ہے۔مسند احمد، نسائی اور حاکم میں حضرت طلحہ بن عبداللہ ذکر کرتے ہیں کہ میں اور ابو سلمہ بن عبدالرحمٰن حج میں ایک دفعہ حضرت عبداللہ بن عمر کے پاس گئے انہوں نے ہمیں کہا کہ یومِ عرفہ کی دوپہر کا کھانا ہمارے ہاں کھانا۔میں نے ان سے کہا جناب یہ دن جو ذوالحجہ کے ہیں یہی لَیَالٍ عَشْرٍ ہیں۔انہوں نے کہا تم کو کس نے بتایا۔میں نے کہا بتانے کی کیا ضرورت ہے مجھے خود یقین ہے کہ اس سے مراد یہی دن ہیں۔حضرت عبداللہ بن عمرؓ نے کہا اگر تمہیں یقین ہے تو کسی وقت میرے پاس آنا میں تمہارے یقین کو شک میں بدل دوں گا۔( تفسیر فتح البیان سورۃ الفجر زیر آیت ’’لَيَالٍ عَشْرٍ‘‘) اس سے صریح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ صحابہؓ سمجھتے تھے کہ ہم ان آیات کی تشریح میں جو کچھ کہتے ہیں یہ ہماری ذاتی رائے ہے۔کسی رائے پر حتمی طور پر یقین کر لینا درست نہیں ورنہ اگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی کوئی حدیث اس بارہ میں ہوتی تو حضرت عبداللہ بن عمرؓ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بتائے ہوئے مضمون کی نسبت یہ کیوں کہتے کہ میرے پاس آنا میں تمہارے یقین کو شک سے بدل دوں گا۔واقعہ یہی ہے کہ ذوالحجہ کے دس دنوں کی فضیلت کے متعلق کئی حدیثیں آئی ہیں مگر ایسی کوئی حدیث نہیں جس سے یہ ثابت ہو کہ قرآن کریم میں لَیَالٍ عَشْرٍ کا جو ذکر آتا ہے اس سے مراد یہی دن ہیں۔ان دنوں کی فضیلت سے ہم انکار نہیں کر تے۔ہمیں اعتراف ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دنوں کو بہت مبارک اور بہت بڑی اہمیت رکھنے والا قرار دیا ہے۔مگر یہ ثابت نہیں ہو سکتا کہ کسی حدیث میں یہ ذکر آتا ہو کہ لَیَالٍ عَشْرٍ سے مراد یہی ایام ذوالحجہ ہیں۔لَیَالٍ عَشْرٍ کے متعلق مفسرین کی رائے اب رہے لوگوں کے خیالات سو لَیَالٍ عَشْرٍ کے متعلق چار خیالات لوگوں میں پائے جاتے ہیں۔۱۔کچھ لوگ کہتے ہیں کہ اس سے ذوالحجہ کی دس ۱۰ راتیں مراد ہیں۔۲۔کچھ لوگ کہتے ہیں کہ اس سے محرّم کی دس ۱۰ راتیں مراد ہیں۔۳۔کچھ لوگ کہتے ہیں کہ اس سے رمضان کی پہلی دس ۱۰ راتیں مراد ہیں۔۴۔کچھ لوگ کہتے ہیں کہ اس سے رمضان کی آخری دس ۱۰ راتیں مراد ہیں۔شفع اور وتر میں بھی بہت کچھ اختلاف ہے کچھ لوگ اس سے نماز مراد لیتے ہیں تو کچھ لوگ کہتے ہیں کہ اس سے مراد عدد ہیں۔اگر شفع اور وتر سے نماز مراد لی جائے یا اعداد مراد لئے جائیں تو ان کے ساتھ کوئی دس راتیں