تفسیر کبیر (جلد ۱۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 166 of 405

تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 166

ہوچکا ہے۔ان کا مطلب یہ ہے کہ جب فجر کا ذکر پہلے آ چکا ہے اور فجر ہمیشہ رات کے جانے پر ہی ہوتی ہے تو پھر اسی بات کو وَالَّیْلِ اِذَایَسْرِ کہہ کر کیوں دہرایا گیا ہے۔چونکہ بلا وجہ کسی بات کو دہرا دینا لغو ہوتا ہے اور لغو بات قرآن کریم کی طرف منسوب نہیں ہو سکتی اس لئے وہ کہتے ہیں کہ یَسْرِ سے مراد اس جگہ جانے کے نہیں بلکہ آنے کے ہیں۔یَسْـرِ کے معنے درحقیقت چلنے کے ہوتے ہیں اور اس میں آنے کا مفہوم بھی شامل ہے اور جانے کا مفہوم بھی شامل ہے۔مگر ہم قرآن کریم کی طرف کیوں ایسی بات منسوب کریں جو لغو ہو۔جب وَالْفَجْرِ میں رات کے جانے کی طرف اشارہ کر دیا گیا ہے تو وَالَّیْلِ اِذَا یَسْرِ میں پھر انہی معنوں کاتکرار درست نہیں ہو سکتا۔پس اس کے معنے رات کے جانے کے نہیں بلکہ آنے کے ہیں چنانچہ وہ کہتے ہیں قرآن کریم نے خود دوسری جگہ فرمایا ہے وَالَّیْلِ اِذَا عَسْعَسَ۔وَالصُّبْحِ اِذَا تَنَفَّسَ (التکویر:۱۸،۱۹) اس سے معلوم ہوتا ہے کہ لیل اور صبح دونوں کی قسم کھا نا جائز ہے چنانچہ وَالْفَجْرِ میں رات کے جانے کی طرف اشارہ کر دیا اور وَالَّیْلِ اِذَایَسْرِ میں رات کے آنے کا ذکر کر دیا ضحاک کے قول کا بھی یہی منشاء ہے وہ کہتے ہیں وَالَّیْلِ اِذَا یَسْرِ اَیْ یَـجْرِیْ۔(نوٹ:۔متذکرہ بالا تمام حوالجات ابن کثیر سے ماخوذ ہیں) (تفسیر ابن کثیر زیر آیت ’’وَالشَّفْعِ وَ الْوَتْرِ‘‘)۔شفع اور وتر کے متعلق تین مختلف بیانات جو آنحضرت صلعم کی طرف منسوب کئے گئے ہیں یہ وہ مختلف بیانات ہیں جو ان آیا ت کے متعلق تفاسیر میں نظر آتے ہیں ان میں سے تین بیان رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کی طرف بھی منسوب کئے گئے ہیں۔اوّل یہ کہ شفع اور وتر سے ذی الحجہ کے ایام عرفہ اور نحر مراد ہیں۔دوم یہ کہ شفع اور وتر سے حج کے بعد منیٰ سے واپسی کے ایام کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ واپس آنا دوسرے دن بھی جائز ہے اور تیسرے دن بھی۔سوم یہ کہ شفع اور وتر سے نماز مراد ہے کہ کوئی نماز شفع ہوتی ہے اور کوئی وتر۔تینوں روایتوں کا یہ اختلاف بتاتا ہے کہ ان روایتوں کو مرفوع کہنا بالکل غلط ہے آخر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم شفع اور وتر کی تشریح میں یہ تینوں مختلف باتیں کس طرح کہہ سکتے تھے معلوم ہوتا ہے یہ رُواۃ کی اپنی رائے ہے۔انہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعض ذوالوجوہ حدیثوں سے یہ خیال کر لیا کہ شاید رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے شفع اور وتر سے یہ مراد لی ہے چنانچہ کسی نے کوئی استنباط کر لیا اور کسی نے کوئی۔پس یہ رُواۃ کی اپنی رائے ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کی طرف قطعی طور پر کسی مفہوم کو منسوب نہیں کیا جا سکتا۔چنانچہ اس کا ثبوت