تفسیر کبیر (جلد ۱۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 13 of 405

تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 13

کیا علم۔میں خود یہ ثواب حاصل کروں گا اور ان کو ضرور قتل کر کے رہوں گا۔یہ ارادہ میں نے پختہ طور پر کر لیا۔مگر جب دوسرا دن ہوا تو حافظ عبدالرحمٰن صاحب پھر مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی سے ملنے کے لئے آئے اور کہنے لگے مولوی صاحب اب مرزا صاحب کے مقابلہ کا راستہ نکل آیا ہے مرزا صاحب نے ایک اشتہار شائع کیا ہے جس میں لکھا ہے کہ خدا کے حکم کے ماتحت میں آئندہ کوئی مباحثہ نہیں کروں گا۔یہ اشتہار ایسا ہے جس سے مرزا بالکل پکڑا جائے گا۔ہم اس کے مقابلہ میں ایک مباحثہ کا اشتہار شائع کر دیتے ہیں اگر اس نے مباحثہ کو مان لیا تو ہم کہیں گے دیکھو ایک طرف تو کہا جاتا ہے کہ خدا نے مجھے مباحثات سے روکا ہے اور دوسری طرف مباحثہ کو منظور کر لیا گیا ہے معلوم ہوتا ہے کہ جو کچھ کہا گیا تھا وہ بالکل جھوٹ تھا اور اگر وہ مباحثہ کے لئے نہیں نکلے گا تب بھی اس کی شکست ہو گی کیونکہ ہم دنیا میں اعلان کر دیں گے کہ ہم مرزا صاحب کو مباحثہ کے لئے بلاتے ہیں مگر وہ میدان میں نکلنے کے لئے تیار نہیں۔ان کی یہ بات سنتے ہی مولوی محمد حسین صاحب اٹھ کر بیٹھ گئے اور کہنے لگے حافظ صاحب آپ نے خوب بات نکالی۔یہ مرزا قادیانی کو لوگوں کی نگاہ سے گرانے کا نہایت کامیاب حربہ ہے۔راوی نے بیان کیا کہ جب ان کی یہ باتیں میں نے سنیں تو اسی وقت یقین کر لیا کہ یہ لوگ جھوٹے ہیں پہلے دن تو یہاں تک کہتے تھے کہ قتل کرنے والے قتل کرنا چاہتے تھے مگر کامیاب نہیں ہوئے۔اور آج ایک خلاف تقویٰ تجویز پر متفق ہو رہے ہیں۔ان لوگوں میں ایمان اور تقویٰ بالکل نہیں ہے۔چنانچہ یہی واقعہ آخر میں ان کی ہدایت اور قبول احمدیت کا باعث ہو گیا۔تو فرماتا ہے يَوْمَ تُبْلَى السَّرَآىِٕرُ فَمَالَهٗ مِنْ قُوَّةٍ وَّ لَا نَاصِرٍ وہ اس نجم الثاقب کو مٹانے کے لئے قسم قسم کی کوششیں کریں گے مگر نہ انہیں ذاتی قوت ملے گی اور نہ کوئی مددگار ملے گا۔جو لوگ بھی ان کی مدد کے لئے کھڑے ہوں گے وہ بالکل نکمّے اوربے کار ہوں گے۔وَ السَّمَآءِ ذَاتِ الرَّجْعِۙ۰۰۱۲ (اور مجھے) قسم ہے اس بادل کی جو بار بار برسنے والے مینہ پر مشتمل ہوتا ہے۔وَ الْاَرْضِ ذَاتِ الصَّدْعِۙ۰۰۱۳ اور اس زمین کی بھی (مجھے قسم ہے) جو (بارش کے جواب میں) روئیدگی والی (ہو جاتی)ہے۔حلّ لُغات۔السَّمَآءُ۔السَّمَآءُ کے لغت میں کئی معنے ہیں۔افلاک کو بھی سَـمَاء کہتے ہیں۔اس وسیع فضاء