تفسیر کبیر (جلد ۱۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 12 of 405

تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 12

تفسیر۔السَّرَآىِٕرُ سے مراد چھپی ہوئی باتیں فرماتا ہے یَوْمَ تُبْلَى السَّرَآىِٕرُ جس دن کہ چھپی ہوئی باتیں خدا تعالیٰ ظاہر کر دے گا یا ان کے مطابق انسان کا امتحان لیا جائے گا۔ان معنوں کے رو سے مومن و کافر دونوں مراد ہوں گے اور اگر اس کے معنے صافی القلب کے لئے جائیں۔تب صرف مومن کے لئے یہ آیت سمجھی جائے گی اور اگر سرائر کے معنے صرف یہ کئے جائیںکہ وہ راز جن کو انسان چھپانا چاہتا ہے تو اس صورت میں یہ آیت صرف کافروں کے لئے ہو گی۔فَمَا لَهٗ مِنْ قُوَّةٍ وَّ لَا نَاصِرٍ یہ آیت اس بات کا ثبوت ہے کہ سَـرِیْرَہ کے معنے متذکرہ بالا آیت میں صافی القلب کے نہیں بلکہ اس سے مراد وہ چیزیں ہیں جن کو انسان چھپاتا ہے اور چھپاتا ہمیشہ بُری باتوں کو ہی ہے فرماتا ہے يَوْمَ تُبْلَى السَّرَآىِٕرُ جس دن کہ انسان کے خراب اور گندے ارادے ظاہر کر دیئے جائیں گے یا اس کا امتحان لیا جائے گا۔ایسے انسان کے اندر نہ تو ذاتی طور پر کوئی قوت ہو گی اور نہ اس کا کوئی اور مددگار ہو گا۔پہلی آیات میں اَلنَّجْمُ الثَّاقِبُ کا ذکر کیا گیا ہے اور ثقب ہمیشہ ایسی چیز پر ہوا کرتا ہے جو تباہی و بربادی کے قابل ہو۔اچھی چیز کو پتھر مار مار کر چھیدا نہیں جاتا پھر اِنْ کُلُّ نَفْسٍ لَمَّا عَلَیْھَا حَافِظٌ میں یہ بتایا گیا تھا کہ لوگ اس نجم ثاقب کی مخالفت کریں گے مگر اللہ تعالیٰ اس نجم ثاقب کے ذریعہ تاریکی اور ظلمت کو دور کر دے گا اور وہ لوگ جو اس کے وجود کے خلاف منصوبے کریں گے اور خفیہ تدابیر کے ذریعہ اس کے کام کو تباہ کرنا چاہیں گے اللہ تعالیٰ ان کے تمام گند اور بد ارادوں کو ظاہر کر دے گا اور ان کو اس طرح تباہ کرے گا کہ نہ ذاتی طور پر وہ اس تباہی کو روکنے کی طاقت رکھیں گے اور نہ باہر سے کوئی اور شخص ان کی مدد کے لئے کھڑا ہو سکے گا۔ایک صاحب نے ایک دفعہ مجھے سنایا کہ میرے والد مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کے بہت دوست ہوا کرتے تھے اور ان کی مجھے ہدایت تھی کہ مولوی محمد حسین صاحب جب شملہ میں آیا کریں تو میں ان سے ضرور ملنے کے لئے جایا کروں۔ایک دفعہ مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی شملہ میں آئے۔میں ان کو دبا رہا تھا کہ اتنے میں حافظ عبدالرحمٰن صاحب کتاب الصرف کے مصنّف وہاں آ گئے اور مولوی محمد حسین صاحب سے کہنے لگے کہ مولوی صاحب مرزا قادیانی نے بڑی ترقی کر لی ہے لوگ اس کے معتقد ہوتے جاتے ہیں اور یہ فتنہ روز بروز ترقی کر رہا ہے مختلف گفتگوؤں کے بعد کسی نے کہا کہ ایسے شخص کو کوئی مار بھی نہیں ڈالتا اس پر مولوی محمد حسین صاحب کہنے لگے مشکل یہ ہے کہ کئی دفعہ ایسا بھی لوگوں نے کرنا چاہا ہے مگر وہ کسی نہ کسی طرح بچ جاتا ہے۔اسی دوست نے ذکر کیاکہ جب وہ یہ باتیں آپس میں کر رہے تھے تو میں نے اپنے دل میں کہا کہ یہ مولوی آدمی ہیں۔انہیں ان باتوں کا