تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 165
شفع سے مراد مخلوق اور وتر سے مراد اللہ تعالیٰ کی ذات ہے(تفسیر ابن کثیر زیر آیت ’’وَالشَّفْعِ وَ الْوَتْرِ‘‘)۔قتادہ حسن بصری سے روایت کرتے ہیں کہ شفع اور وتر سے مراد عدد ہیں کہ وہ شفع اور وتر ہوتے ہیں (تفسیر ابن کثیر زیر آیت ’’وَالشَّفْعِ وَ الْوَتْرِ‘‘) مثلاً ایک۱ وتر ہے دو۲ شفع ہے تین۳ وتر ہے چا۴ر شفع ہے اسی طرح جس قدر عدد گنتے چلے جاؤ ان میں سے ایک شفع ہو گا اور ایک وتر۔پس ان کے نزدیک شفع اور وتر میں اعداد کی طرف اشارہ کیاگیا ہے۔ابن جریر نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے کہ عبداللہ بن زبیر جابر سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ اَلشَّفْعُ اَلْیَوْمَانِ وَالْوَتْرُ اَلْیَوْمُ الثَّالِثُ (تفسیر ابن کثیر زیر آیت ’’وَالشَّفْعِ وَالْوَتْرِ‘‘) یعنی وہی جو ابن زبیر نے بیان کیا تھا کہ شفع میں فَمَنْ تَعَجَّلَ فِيْ يَوْمَيْنِ فَلَاۤ اِثْمَ عَلَيْهِ کی طرف اشارہ ہے اور وتر میں وَ مَنْ تَاَخَّرَ فَلَاۤ اِثْمَ عَلَيْهِ کی طرف۔وہی بات اس روایت میں بیان کی گئی ہے۔مگر یہ روایت خود ان کی پہلی روایت کے خلاف ہے جس میں وہ یہ بیان کر چکے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا کہ شفع یومِ نحر ہے اور وتر یومِ عرفہ۔ابو العالیہ اور ربیع بن انس کہتے ہیں کہ اس سے مراد نماز ہے کہ اس میں سے کوئی شفع ہوتی ہے اور کوئی وتر ہوتی ہے۔مغرب کی فرض نماز وتر ہے اسی طرح وتر کی نماز اس میں شامل ہے لیکن باقی سب نمازیں شفع ہیں کیونکہ ان میں سے کسی کی دو دو رکعت ہوتی ہیں اور کسی کی چار چار(تفسیر ابن کثیر زیر آیت ’’وَالشَّفْعِ وَ الْوَتْرِ‘‘)۔امام احمد عمران بن حصین سے روایت کرتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ھِیَ الصَّلٰوۃُ بَعْضُھَا شَفْعٌ وَ بَعْضُھَا وِتْرٌ اس سے مراد نماز ہے کیونکہ کوئی نماز شفع ہوتی ہے اور کوئی وتر(مسند احمد بن حنبل حدیث عمران بن حصین)۔یہ تیسری روایت ہے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کی گئی ہے مگر یہ تیسری روایت بھی پہلی دونوں روایتوں کے خلاف ہے۔یہی روایت ترمذی اور ابن جریر نے بھی دوسرے سلسلہ سے بیان کی ہے اسی طرح ابوداؤد نے بھی یہی روایت کی ہے (تفسیر ابن کثیر زیر آیت ’’وَالشَّفْعِ وَ الْوَتْرِ‘‘)۔وَالَّیْلِ اِذَایَسْرِ وَالَّیْلِ اِذَایَسْرِکی تشریح سابق مفسرین کے نزدیک ابن عباسؓ کہتے ہیں اس کے معنے یہ ہیں کہ جب رات چلی جائے۔اور ابن کثیر کہتے ہیں کہ اس سے مراد یہ بھی ہو سکتا ہے کہ جب رات آئے اس طرح اقبال النہار اور ادباراللیل کی قسم ہو گئی۔گویا ابن عباس کے نزدیک تو اس میں رات کے جانے کا ذکر ہے مگر ابن کثیر کے نزدیک اس میں رات کے آنے کا ذکر ہے۔رات کے جانے کا ذ کر وَالْفَجْرِ میں