تفسیر کبیر (جلد ۱۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 161 of 405

تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 161

پہلے آچکا ہے اس کے اعادہ کی ضرورت نہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میں فجر کو شہادت کے طور پر پیش کرتا ہوں اسی طرح میں دس عظیم الشان راتوں کو شہاد ت کے طور پر پیش کرتا ہوں نیز میں شفع اور وتر کو شہادت کے طور پر پیش کرتا ہوں۔شفع اور وتر کے الفاظ بتا رہے ہیں کہ ان میں سے کوئی چیز طاق ہے اور کوئی چیز جفت ہے کیونکہ وتر طاق کو کہتے ہیں اور شفع جفت کو۔اسی طرح فرماتا ہے میں رات کو شہادت کے طور پر پیش کرتا ہوں جب وہ چلی جائے گی۔اس جگہ چار قسمیں کھائی گئی ہیں سوال یہ ہے کہ ان سے مراد کیا ہے اور کس چیز کو کس چیز کی شہادت کے لئے پیش کیا گیا ہے۔فجر کیا چیز ہے اور وہ کس امر کی شہادت دے رہی ہے۔لَیَالٍ عَشْرٍ کیا چیز ہیں اور کون سی دس راتیں یہاں مراد ہیں اور وہ کس امر کے ثبوت کے لئے بطور شاہد پیش کی گئی ہیں۔شفع اور وتر کیا چیز ہیں اور انہیں کس بات کے ثبوت کے لئے پیش کیا گیا ہے اسی طرح رات جو جانے والی ہے کون سی ہے اور اسے کس بات کے ثبوت کے لئے پیش کیا گیا ہے؟ الفجر حضرت علیؓ، ابن عباسؓ، عکرمہ، مجاہد اور سدی کا قول ہے کہ فجر سے مراد وہ معروف صبح ہے جو رات کے بعد آتی ہے ( تفسیر ابن کثیر زیر آیت ’’وَ الْفَجْرِ وَ لَيَالٍ عَشْرٍ‘‘) مسروق اور محمد بن کعب کا قول ہے کہ اس سے مراد یوم نحر کی صبح ہے ( تفسیر ابن کثیر زیر آیت ’’وَ الْفَجْرِ وَ لَيَالٍ عَشْرٍ‘‘) گویا صبح سے وہ صبح ہی مراد لیتے ہیں مگر کہتے ہیں اس سے ہر صبح مراد نہیں بلکہ قربانی کے دن سے پہلے جو صبح آتی ہے وہ مراد ہے اور وہ دس راتوں کی آخری فجر ہے کیونکہ عید دسویں تاریخ کو ہوتی ہے پس ان کے نزدیک فجر سے مراد ذوالحجہ مہینہ کی دس راتوں کی آخری فجر ہے۔عکرمہ کہتے ہیں کہ فجر سے مراد وہ صبح کی نماز ہے جو دسویں ذوالحجہ کو پڑھی جاتی ہے یعنی عید کے دن کی صبح کی نماز۔گویا یہ بھی انہی معنوں کی طرف گئے ہیں جو مسروق اور محمد بن کعب نے کئے ہیں صرف فرق یہ ہے کہ وہ اس سے ذوالحجہ کی دسویں تاریخ کی فجر مراد لیتے ہیں اور یہ فجر کی نمازمراد لیتے ہیں یا کہتے ہیں کہ فجر سے تہجد کی نماز بھی مراد ہوسکتی ہے اور ابن عباسؓ کہتے ہیں کہ فجر سے مراد سارا دن بھی ہو سکتا ہے ان معنوں کے رو سے بھی ذوالحجہ کی دسویں تاریخ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے صرف یہ فرق ہے کہ فجر سے پَو پھٹنے سے لے کر سورج نکلنے تک کا وقت مراد نہیں لیا گیا۔بلکہ پَو پھٹنے سے لے کر شام تک عید کا سارا دن مراد لیا گیا ہے یعنی عید کا سارا دن۔( تفسیر ابن کثیر زیر آیت ’’وَ الْفَجْرِ وَ لَيَالٍ عَشْرٍ‘‘) لَیَالٍ عَشْرٍ۔دوسرا سوال یہ ہے کہ دس راتوں سے کیا مراد ہے ابن عباس کا قول ہے کہ دس راتوں سے