تفسیر کبیر (جلد ۱۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 153 of 405

تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 153

کے لئے ایک بنیادی حیثیت رکھتا ہے، جب لوگ نبی کو ماننے لگ جاتے ہیں تو ان کی اخلاقی اصلاح آپ ہی آپ ہو جاتی ہے۔حقیقت یہی ہے کہ کفار جب نبی کی مخالفت اس کے دعویٰ کے متعلق زور شور سے شروع کر دیتے ہیں تو ان کا یہ جرم باقی تمام جرائم سے بڑھ جاتا ہے کیونکہ سب نیکیاں نبیوں سے شروع ہوتی ہیں نبی کے انکار کا جرم سب نیکیوں کے انکار کا موجب ہوتا ہے اس لئے اس وقت زیادہ زور اسی انکارِ نبوت کے جرم پر دیا جاتا ہے کیونکہ اس کی اصلاح باقی سب باتوں میں اصلاح کروا سکتی ہے۔مگر اس سے پہلے کے عرصہ میں جب دعویٰ کا ابتداء ہوتا ہے تفصیلی نقائص کی طرف زیادہ توجہ دی جاتی ہے۔یہ نہیں کہ بعد میں تفصیلات کا ذکر نہیں ہوتا۔ذکر تو ہوتا ہے لیکن ان پر زور کم کر دیا جاتا ہے کیونکہ ایک ہی اصلاح کے ساتھ سب امور کی اصلاح وابستہ ہونے سے تفصیلات کی اہمیت کم ہو جاتی ہے۔ہم نے دیکھا ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام پر لوگ ہمیشہ یہ اعتراض کیا کرتے تھے کہ آپ ان باتوں پر تو زیادہ زور دیتے ہیں کہ مجھے یہ الہام ہوا ہے وہ الہام ہوا ہے مگر اور امور کی طرف توجہ نہیں کرتے آپ اس کے جواب میں فرمایا کرتے تھے کہ سارے نقائص اور عیوب خدا تعالیٰ سے بُعد کے نتیجہ میں پیدا ہوتے ہیں۔اگر لوگوں کو خدا تعالیٰ کی ذات کے متعلق کامل یقین پیدا ہو جائے تو ان سے گناہ سرزد نہ ہوں۔میں لوگوں کے سامنے خدا تعالیٰ کے تازہ بتازہ الہامات اور اس کے نشانات ومعجزات کو بار بار اس لئے پیش کرتا ہوں کہ ان کے دلوں میں خدا تعالیٰ کے متعلق یقین پیدا ہو جائے جس دن ان کے دلوں میں سچا یقین پیدا ہوا اور انہوں نے مجھے مان لیا یہ عیوب آپ ہی آپ دور ہو جائیں گے۔غرض جب تک لوگ نبوت کی کھلی مخالفت نہیں کرتے جزئیات کی طرف زیادہ توجہ دلائی جاتی ہے اور انہیں کہا جاتا ہے کہ تم میں یہ بھی نقص ہے وہ بھی نقص ہے۔مگر جب وہ کھلے بندوں نبی کی مخالفت کے لئے کھڑے ہو جاتے ہیں جب وہ کہتے ہیں ہم اس نبی کو اور اس نبی کے ماننے والوں کو کچل کر رکھ دیں گے اس وقت ان کے اس نقص کو جو بنیادی ہے یعنی اللہ تعالیٰ کے کلام پر ایمان میں کمی، اسے سامنے رکھ کر اس کی اصلاح پر زور دیا جاتا ہے اور اسی میں باقی تمام جزئیات کی اصلاح آ جاتی ہے۔اس سورۃمیں بھی کفار کے تفصیلی گناہوں پر زیادہ زور دیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ وہ یتامیٰ کی طرف توجہ نہیں کرتے، مساکین کو کھانا نہیں کھلاتے، ان کے دلوں میں یہ حرص پائی جاتی ہے کہ ہم زیادہ سے زیادہ مال اپنے پاس جمع کر لیں۔یہ نقائص ان کے ایمان کی کمزوری پر دلالت کرتے ہیں اس کی اصلاح ہونی چاہیے۔ان