تفسیر کبیر (جلد ۱۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 152 of 405

تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 152

اپنی اونٹنی کو چارہ ڈالا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم یہ سن کر حضرت معاذؓ پر ناراض ہوئے اور ان سے فرمایا معاذ! کیا تم لوگوں کو فتنہ میں ڈالتے ہو تمہیں سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْاَعْلَى اور وَ الشَّمْسِ وَ ضُحٰىهَا اور وَالْفَجْرِ اور وَالَّيْلِ اِذَا يَغْشٰى کے پڑھنے میں کیا تکلیف ہوتی تھی تم نے یہ سورتیں کیوں نہ پڑھیں اور لمبی سورتیں کیوں شروع کر دیں۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سورتوں کو اوسط سورتوں میں قرار دیا ہے۔خاص اوقات میں انسان بے شک لمبی سورتیں پڑھ لے یا تکلیف اور بیماری کی صورت میں چھوٹی سورتیں پڑھ لے۔لیکن اوسط سورتیں یہی ہیں جن کو عام طور پر بالجہر نمازوں میں پڑھنا چاہیے۔سورۃ الفجر کا زمانہ نزول اس سورۃ کی نسبت یوروپین مفسرین کا خیال ہے کہ یہ ابتدائی سالوں کی ہے اور میرے نزدیک یہی درست ہے۔نولڈکے جرمن محقق اسے سورۃ الغاشیہ کے معاً بعد کی قرار دیتا ہے (A Comprehensive Commentary On Quran by Wherry Vol:4 Page:242) اور غاشیہ کی نسبت یوروپین مفسرین کی رائے میں پہلے بتا چکا ہوں کہ وہ اسے تیسرے اور چوتھے سال کے ملتے ہوئے حصوں کی قرار دیتے ہیں یعنی ان کے نزدیک یہ سورۃ یا تیسرے سال کے آخری نصف میں نازل ہوئی ہے یا چوتھے سال کے پہلے نصف میں نازل ہوئی ہے یا چوتھے سال کے پہلے نصف میں نازل ہوئی ہے اور یہ رائے درست معلوم ہوتی ہے کیونکہ ان سورتوں میں مخالفت کی ابتدا کی طرف اشارہ کیا گیا ہے منظّم اور تفصیلی مخالفت کا اس میں ذکر نہیں بلکہ یہ بتایا گیا ہے کہ مخالفت ہونے والی ہے اور یہ وہی زمانہ تھا جو تیسرے سال کا آخری یا چوتھے سال کا شروع تھا۔وہ تفصیلی مخالفت جس کا ذکر ان سورتوں میں ہے جو مخالفت کے بعد اتریں ان کا ذکر یہاں نہیں۔دوسری بات یہ ہے کہ یہاں کفار کے وہ عیوب گنائے گئے ہیں جو اخلاقی، شرعی اور دینی ہوتے ہیں مثلاً یتامیٰ کی خبر گیری کیوں نہیں کرتے، مساکین کو کھانا کیوں نہیں کھلاتے۔اس قسم کے عیوب ہر زمانہ میں ہی گنائے جاتے ہیں لیکن جب نبوت کی کھلی مخالفت شروع ہو اس وقت زیادہ زور انکارِ نبوت کے جرم پر دیا جاتا ہے اور اس جرم کو باقی تمام جرائم کی اساس اور بنیاد سمجھا جاتا ہے اس وقت تفصیلی جرائم کی طرف توجہ نہیں کی جاتی۔جب تک لوگ نبی کی مخالفت نہیں کرتے اس وقت تک ان کے اور نقائص پر زور دیا جاتا ہے مثلاً انہیں کہا جاتا ہے کہ تم یتامیٰ سے حسنِ سلوک نہیں کرتے، بیواؤں کی خبر گیری نہیں کرتے، مساکین کے ساتھ ہمدردی کے ساتھ پیش نہیں آتے، اللہ تعالیٰ کی عبادت نہیں کرتے لیکن جب وہ مامور کی مخالفت کرتے ہیں تو سارا زور اس بات پر صرف کر دیا جاتا ہے کہ سب سے بڑا عیب تم میں یہ ہے کہ تم ایک نبی کے منکر ہو۔اس کی وجہ یہ ہے کہ ایمان بالرسالت تمام اعمال صالحہ