تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 151
سُوْرَۃُ الفَجْرِمَکِّیَّۃٌ سورۂ فجر۔یہ سورۃ مکی ہے وَ ھِیَ ثَلٰثُوْنَ اٰیَۃً دُوْنَ الْبَسْمَـلَۃِ وَ فِیْـھَا رُکُوْعٌ وَّاحِدٌ اور بسم اللہ کے علاوہ اس کی تیس آیتیں ہیں اور ایک رکوع ہے سورۃ الفجر مکی ہے یہ سورۃ مکی ہے فتح البیان والے لکھتے ہیں ھِیَ مَکِّیَّۃٌ بِلَاخِلَافٍ فِی قَوْلِ الْـجُمْھُوْرِ۔(تفسیر فتح البیان سورۃ الفجر ابتدائیۃ) جمہور علماء کے نزدیک اس کے مکی ہونے میں کوئی اختلاف نہیں۔ابن عباسؓ، ابن زبیرؓ اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے بھی یہی مروی ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم سورۃ الاعلیٰ، سورۃ الغاشیہ، سورۃ الفجر اور اسی قسم کی بعض اور سورتوں کو عام طور پر فرض نمازوں میں پڑھنا زیادہ پسند فرمایا کرتے تھے۔نسائی نے جابرؓ سے روایت کی ہے کہ حضرت معاذ بن جبلؓ ایک دفعہ نماز پڑھا رہے تھے کہ ایک آدمی ان کے ساتھ پیچھے سے آ کر شامل ہوا۔حضرت معاذؓ نے نماز لمبی شروع کر دی بعض روایتوں میں آتا ہے کہ انہوں نے سورۂ آل عمران یا سورۂ نساء کی تلاوت شروع کر دی تھی۔جب نماز لمبی ہو گئی تو اس نے نماز توڑ کر ایک دوسرے کونہ میں جا کر علیحدہ نماز شروع کر دی اور فارغ ہو کر چلا گیا۔نماز کے بعد کسی شخص نے حضرت معاذؓ سے اس واقعہ کا ذکر کیا اور کہا کہ آپ نماز پڑھا رہے تھے کہ ایک شخص آیا اور اس نے آپ کے ساتھ نماز شروع کی مگر جب آپ نے نماز میں دیر لگا دی تو وہ نماز توڑ کر علیحدہ ہو گیا اور ایک کونے میں نماز پڑھ کر چلا گیا۔حضرت معاذؓ نے کہا وہ منافق ہو گا پھر انہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی اس واقعہ کا ذکر کر دیا اور کہا یا رسول اللہ! میں نماز پڑھا رہا تھا کہ پیچھے فلاں شخص آ کر شامل ہوا مگر جب نماز لمبی ہوگئی تو وہ نماز توڑ کر الگ ہو گیا اور علیحدہ نماز پڑھ کر چلا گیا۔جب اس شخص کو معلوم ہوا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کے پاس میری شکایت کی گئی ہے تو وہ آپؐکی خد مت میں حاضر ہوا اور اس نے کہا یا رسول اللہ میں آیا تو یہ نماز پڑھا رہے تھے میں ان کے ساتھ نماز میں شامل ہو گیا مگر انہوں نے نماز لمبی کر دی۔آخر ہم کام کرنے والے آدمی ہیں میری اونٹنی بغیر چارہ کے کھڑی تھی میں نے نماز توڑ کر مسجد کے ایک کونے میں اپنی نماز ختم کر لی اور پھر گھر جا کر