تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 148
یہاں بھی دیکھ لو اسلام اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے غلبہ کی کیسے کھلے لفظوں میں پیشگوئی کی گئی ہے۔مکی زندگی میں جبکہ ابھی اسلام کا ابتدا تھا اور کسی کے وہم وگمان میں بھی نہیں آ سکتا تھا کہ اسلام بہت بڑی طاقت حاصل کر لے گا یہاں تک کہ کفار کی گردنیں مسلمانوں کے قبضہ میں ہوں گی اور وہ اختیار رکھتے ہوں گے کہ ان سے جو سلوک چاہیں کریں۔اللہ تعالیٰ نے فرما دیا کہ لَسْتَ عَلَيْهِمْ بِمُصَۜيْطِرٍ یہ صاف بات ہے کہ مکہ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کو کوئی ایسی طاقت حاصل نہیں تھی کہ آپ کو یہ کہا جاتا کہ تجھے ہم نے مصیطر بنا کر نہیں بھیجا۔یہ آئندہ کے متعلق پیشگوئی کی گئی تھی اور اسلام کے غلبہ کی خبر دی گئی تھی ورنہ وہ لوگ جن کو مکہ میں کھلے بندوں نماز پڑھنے کی بھی اجازت نہیں تھی ان کو یہ کہنا کہ تمہیں زبردستی کسی کو مسلمان بنانے کی اجازت نہیں ایک مضحکہ خیز بات ہو جاتی ہے۔یہ فقرہ صاف بتا رہا تھا کہ وہ دن آنے والا ہے جب کہ مسلمانوں کو اتنی طاقت حاصل ہو جائے گی کہ وہ اگر چاہیں تو زبردستی لوگوں کو مسلمان بنا سکیں گے مگر پہلے ہی اللہ تعالیٰ نے بطور نصیحت فرما دیا کہ تم ایسا نہ کرنا۔لَسْتَ عَلَيْهِمْ بِمُصَۜيْطِرٍ میں غلبہ اسلام کی پیشگوئی غرض لَسْتَ عَلَيْهِمْ بِمُصَۜيْطِرٍ اِلَّا مَنْ تَوَلّٰى وَكَفَرَ میں غلبہ اسلام کی پیشگوئی پائی جاتی ہے۔اور یہ بات ایسی ہے کہ عیسائی مصنّفین کو بھی کھٹکی ہے چنانچہ ویری اس آیت کے ماتحت لکھتا ہے آپؐکے دل میں شروع سے ہی حکومت کے خیالات اٹھ رہے تھے (1۔Wherry,s Commentary On Quran vol:4 P:240 2۔Wherry,s Commentary On Quran vol:1 P:333)چنانچہ ابتدائی زمانہ میں ہی اس قسم کی آیات مکہ والوں کو سنانا بتا رہا ہے کہ انہوں نے شروع سے ہی حکومت کا نقشہ اپنے ذہن میں جمایا ہوا تھا اور ویسے ہی خیالات دل میں پیدا ہوتے رہتے تھے مگر سوال یہ ہے کہ حکومت کے خیالات آخر کسی وجہ سے پیدا ہوا کرتے ہیں بغیر کسی وجہ کے پیدا نہیں ہو سکتے۔وہ شخص جو ماریں کھا رہا ہو، جو لوگوں کے ظلم وستم کا نشانہ بنا ہوا ہو، جو اتنی طاقت بھی نہ رکھتا ہو کہ باہر نکل کر خدا تعالیٰ کی عبادت کر سکے اس کے دل میں حکومت کے خیالات پیدا ہی کس طرح ہو سکتے ہیں اور پھر خود ساختہ خیالات پورے کس طرح ہو گئے۔درحقیقت یہ ایک پیشگوئی تھی اور اللہ تعالیٰ نے بتایا تھا کہ گو اس وقت تمہاری کوئی حیثیت نہیں مگر ایک زمانہ میں تم کو ایسا غلبہ حاصل ہونے و الا ہے کہ تم جو چاہو گے کر سکو گے مگر دیکھنا جب تمہیں غلبہ میسر آئے اس وقت ان لوگوں پر جبر نہ کرنا بلکہ ان کو اپنے حال پر چھوڑ دینا جو شخص ایمان لے آئے اسے اپنے اندر شامل کر لینا اور جو تَوَلّٰى اور کفر کرے اس کی پرواہ نہ کرنا۔