تفسیر کبیر (جلد ۱۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 11 of 405

تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 11

اِنَّهٗ عَلٰى رَجْعِهٖ لَقَادِرٌؕ۰۰۹ وہ (خدا تعالیٰ) اس کے دوبارہ لوٹانے پر بھی یقیناً قادر ہے۔تفسیر۔انسان کے مَآءٍ دَافِقٍ سے پیدا ہونے سے مراد یہاں انسان کی پیدائش کا اللہ تعالیٰ نے ذکر کیا ہے اور پہلی بات یہ بتائی ہے کہ خُلِقَ مِنْ مَّآءٍ دَافِقٍ۔انسان میں خدا تعالیٰ نے دفق کی قابلیت رکھی ہے کیونکہ اس کی پیدا ئش ہی ایسے پانی سے ہوئی ہے جو اچھلنے والا ہے۔چنانچہ انسان کے تمام اعمال بھی اسی اچھلنے کی صفت کے مطابق ہوتے ہیں یعنی وہ ہمیشہ اچھلتا کودتا ہے اور آگے کی طرف بڑھنے کی اس میں رغبت پائی جاتی ہے اور جس طرح اچھلنے والا کبھی اوپر اچھلتا ہے اور کبھی نیچے آتا ہے اسی طرح وہ مختلف دوروں سے گذرتا ہے کبھی وہ ادنیٰ دَور میں سے گذر رہا ہوتا ہے اور کبھی اعلیٰ دَور میں سے۔یہ تمام باتیں دلالت کرتی ہیں کہ انسانی فطرت میں بڑھنے کا مادہ رکھا گیا ہے اور ترقی کا راستہ اللہ تعالیٰ نے اس کے لئے کھولا ہوا ہے لیکن جب وہ اس سے فائدہ نہیں اٹھاتا تو نقصان بھی اٹھا لیتا ہے۔يَوْمَ تُبْلَى السَّرَآىِٕرُۙ۰۰۱۰ اس دن (لوٹانے پر) جب پوشیدہ بھید ظاہر کئے جائیں گے۔فَمَا لَهٗ مِنْ قُوَّةٍ وَّ لَا نَاصِرٍؕ۰۰۱۱ جس کے نتیجہ میں نہ تو (اپنے پر سے مصیبت ٹلانے کی) کوئی طاقت اس کے پاس رہے گی اور نہ اس کا کوئی مددگار ہو گا۔حلّ لُغات۔تُبْلٰى۔تُبْلٰی کے معنے ہیں تُکْشَفُ وَتُعْرَفُ و تُظْھَرُ یعنی ظاہر کئے جائیں گے اور سَـرَائِرُ سَـرِیْرَۃٌ کی جمع ہے اور سَـرِیْرَۃٌ کے معنے ہیں اَلسِّـرُّ الَّذِیْ یُکْتَمُ ایسا راز جس کو انسان چھپاتا ہے اور سَـرِیْرَۃُ الْاِنْسَانِ کے معنی ہیں مَااَسَـرَّہُ مِنْ اَمْرِہٖ خَیْـرًا وَقِیْلَ شَـرًّا یعنی ہر وہ بات جو انسان چھپانا چاہتا ہو۔خواہ وہ اچھی ہو یا بری۔اسی طرح کہتے ہیں فُلَانٌ طَیِّبُ السَّـرِیْرَۃِ اَیْ سَلِیْمُ الْقَلْبِ صَافِی النِّیَّۃِ یعنی فلاں صاف دل اور صاف نیت ہے (اقرب )