تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 140
بلکہ عام ذکر ہے اور بتایا گیا ہے کہ وہ جہاں جائیں گے لوگ ان کے رستہ میں فرش بچھائیں گے۔ان کا استقبال کر یں گے۔ان سے عزت کے ساتھ پیش آئیں گے اور چاہیں گے کہ وہ ان کے گھروں میں رہیں اور اس طرح ان کے لئے برکت کا باعث بنیں۔لوگ عموماً ظاہر پر مرتے ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ استقبال وہی ہوتا ہے جب بڑی بڑی قالینیں بچھائی جائیں، شاندار دروازے بنائے جائیں، رنگ برنگ کی جھنڈیاں لگائی جائیں اور ظاہری لحاظ سے نمائش کی جائے حالانکہ اصل استقبال قالین بچھانا نہیں بلکہ آنکھوں کا فر شِ راہ کرنا ہے۔ایک شاعر نے کہا ہے ع حضرتِ واعظ جو آئیں دیدہ و دل فرشِ راہ (دیوان غالب صفحہ ۳۰) پس لوگوں کے دیدہ و دل کا فرشِ راہ ہونا ہی اصل عزت کی علامت ہے اور اسی کی طرف زَرَابِیُّ مَبْثُوْثَۃٌ میں اشارہ کیا گیا ہے اس سے مراد ظاہری زَرَابِیُّ نہیں۔ان ظاہری زَرَابِیُّ کی تو صحابہ کو پرواہ بھی نہیں تھی۔جب ایران کے بادشاہ کے دربار میں صحابہؓ گئے تو وہ اپنے نیزوں کی اَنّی اس کے بڑے بڑے قیمتی قالینوں میں چبھوتے چلے جاتے تھے ایرانی دلوں میں کہتے تھے کہ یہ کیسے بد تہذیب ہیں کہ انہوں نے ہزاروں روپیہ کی قالینیں نیزے مار مار کر خراب کر دیں مگر انہیں اس کی کوئی پرواہ ہی نہیں تھی۔جب بادشاہ کے سامنے پیش ہوئے تو اس نے صحابہؓ سے کہا کہ تم کیا جانو کہ سیاست کیا چیز ہوتی ہے بہتر یہ ہے کہ روپیہ لے لو اور واپس چلے جاؤ ناحق اپنی جانوں کو کیوں ضائع کرتے ہو۔اس کا خیال تھا کہ عرب روپے لے کر خوش ہو جائیں گے اور لڑائی کا خیال ترک کر دیں گے۔اس نے ان کی جو قیمت لگائی اس سے معلوم ہو سکتا ہے کہ بیرونی اقوام اہلِ عرب کے متعلق کیسے ذلیل اندازے لگایا کرتی تھیں۔معلوم ہوتا ہے عرب اس زمانہ میں ایسے ہی لالچی اور حریص ہوتے ہوں گے ورنہ ان کے متعلق وہ ایسا اندازہ کیوں لگاتا۔اس نے حکم دیا کہ ہر سپاہی کو ایک ایک اشرفی اور ہر سردار کو دو دو اشرفی دی جائے۔صحابہؓ نے اسے کہا اب تو دو صورتوں میں سے ایک ہی صورت ہے یا ہماری موت یا تمہاری موت۔یہ کبھی نہیں ہو سکتا کہ اسلام جنگ شروع ہو جانے کے بعد کفر سے صلح کرے۔یہ سن کر بادشاہ کو سخت غصہ آیا۔اس نے مٹی کا ایک بورا بھروایا اور مسلمانوں کے سردار سے کہا کہ آگے آؤ۔وہ آگے آئے تو اس نے وہ بورا ان کی پیٹھ پر لدوا دیا اور کہا اس مٹی کے بورے کے سوا اب تمہیں کچھ نہیں مل سکتا۔ساتھی صحابہؓ کا خیال تھا کہ ان کا سردار مٹی کے اس بورے کو اٹھانے سے انکار کر دے گا اور کہے گا میں اس ہتک کو برداشت نہیں کر سکتا۔مگر انہوں نے آگے بڑھ