تفسیر کبیر (جلد ۱۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 133 of 405

تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 133

یہی مراد ہے کہ ان کے صدقات صدقاتِ جاریہ ہوں گے اور ان کے احسان بنی نوع انسان سے محدود نہیں ہوں گے یا معمولی اور چھوٹے درجہ کے نہیں ہوں گے۔بلکہ ایسے ہوں گے جو عرصۂ دراز تک چلتے چلے جائیں گے۔جیسے رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم سے صحابہؓ نے علم لیا۔اور پھر اسے دنیا میں اس طرح پھیلایا کہ عَنْ فُلَانٍ عَنْ فُلَانٍ کے ایک لمبے سلسلہ کے ماتحت وہ اگلی نسلوں تک پہنچ گئے۔اگلوں نے اگلوں تک اور پھر اگلوں نے اگلوں تک یہاں تک کہ وہ سارے علوم ہم تک پہنچ گئے۔اللہ تعالیٰ نے صحابہ کرام میں یہ خوبی بدرجہ اتم رکھی ہوئی تھی کہ وہ علوم کے خزانے صرف اپنے تک محدود نہیں رکھتے تھے بلکہ دوسروں تک عَیْنٌ جَارِیَۃٌ بن کر پہنچا دیتے تھے۔لوگوں کے پاس علم ہوتا ہے تو وہ اس کو بند کر لیتے ہیں مگر صحابہؓ کی یہ حالت تھی کہ ایک صحابیؓ سے ایک دفعہ کسی نے کوئی بات پوچھی۔اس نے جواب دیا کہ مجھے تو یہ بات معلوم نہیں لیکن اگر مجھے معلوم ہوتی اور میری گردن پر کوئی شخص تلوار رکھ کر کہتا کہ اب میں تجھے قتل کرنے لگا ہوں تو میں اس کی تلوار چلنے سے پہلے جلدی جلدی بتا دیتا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم سے میں نے فلاں فلاں بات سنی ہوئی ہے(صحیح بخاری کتاب العلم باب العلم قبل القول والعمل)۔یہ عَیْنٌ جَارِیَۃٌ ہی تھے کہ کسی جگہ ٹکتے نہیں تھے بلکہ بہتے چلے جاتے تھے۔پھر عَیْنٌ جَارِیَۃٌ میں یہ خبر بھی دی گئی تھی کہ صحابہؓ اور ان کے شاگرد دور دور تک نکل جائیں گے صرف عرب میں محدود نہیں رہیں گے۔عَیْنٌ جَارِیَۃٌ کے ماتحت مسلمانوں کا مختلف ممالک میں پھیل جانا چنانچہ دیکھ لو مسلمان عرب سے نکلے اور دنیا کے دور دراز ممالک تک پھیل گئے یہاں تک کہ وہ چین بھی گئے اور انہوں نے اسلام پھیلایا۔انطاکیہ میں بھی گئے اور اسلام پھیلایا۔سپین میں بھی گئے اور اسلام پھیلایا۔غرض وہ دنیا کے کناروں تک نکل گئے اور دنیا میں علوم کے دریا انہوں نے بہا دیئے۔جس طرح جاری چشمہ کا پانی دور دور کی زمین کو سیراب کر دیتا ہے اسی طرح مسلمان ٹھہرتے نہیں تھے بلکہ اپنے علوم سے دنیا کو مستفیض کر تے چلے جاتے تھے۔یہی خوبیاں ہیں جو جیتنے والی اقوام سے مخصوص ہیں۔ہماری جماعت کو سوچنا چاہیے کہ کیا ہم میں بھی یہ خوبیاں پائی جاتی ہیں یا نہیں۔حکومت کا حصہ تو اپنے وقت پر آئے گا لیکن سوال یہ ہے کہ کیا باقی خوبیاں ہم نے اپنے اندر پیدا کر لی ہیں؟ کیا ہم اپنی نظر میں، لوگوں کی نظر میں اور پھر خدا تعالیٰ کی نظر میں ہر قسم کے نقائص سے پاک ہیں؟ کیا ہمارے اخلاق اس قسم کے ہیں کہ ہم نہ اپنی زبان سے لَاغِیَۃ سنتے ہیں اور نہ لوگوں کی زبان سے لَاغِیَۃ سنتے ہیں؟ اور کیا ہماری کوششیں یہی ہوتی ہیں کہ عَیْنٌ جَارِیَۃٌ کی طرح ہم جو بات بھی سنیں اسے دوسرے لوگوں تک پہنچا دیں یا ہم صرف واہ واہ اور سبحان اللہ کہنے کے لئے سنتے ہیں؟ صحابہؓ کی یہ حالت تھی کہ وہ رات اور دن تعلیم میں لگے رہتے تھے اور