تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 132
انہیں برا کہیں بلکہ وہ لوگوں کے محسن ہوں گے، منعم ہوں گے، معلّم ہوں گے اور لوگ ان کی تعریف کریں گے۔لیکن کمینے انسان کی یہ حالت ہوتی ہے کہ وہ دونوں حالتوں میں لڑتا ہے اس پر احسان کرو تب بھی لڑتا ہے نہ کرو تب بھی لڑتا ہے۔گویا اس کی حالت کتے کی طرح ہوتی ہے کہ اِنْ تَحْمِلْ عَلَیْہِ یَلْھَثْ اَوْتَتْرُکْہُ یَلْھَثْ (الاعراف:۱۷۷) دونوں حالتوں میں زبان نکالے کتے کی طرح پیچھے پڑا رہتا ہے۔ایسا انسان اسی صورت میں خاموش ہوتا ہے جب اس کے مدمقابل کو حکومت اور غلبہ میسر آ جائے۔پس فرماتا ہے مسلمانوں کو غلبہ مل جائے گا اور کوئی صورت لَاغِیَۃً سننے کی نہیں رہے گی دشمنانِ دین جو احسان فراموش ہیں وہ غلبہ کی وجہ سے تعریف کریں گے اور جو شرافت رکھتے ہیں وہ احسان کی وجہ سے تعریف کریں گے اور یہ خود نیک طبیعت ہونے کی وجہ سے کسی سے بدگوئی نہیں کریں گے اس لئے لغو ان کو سنائی ہی نہیں دے گا۔فِيْهَا عَيْنٌ جَارِيَةٌۘ۰۰۱۳ اس میں ایک بہتاہوا چشمہ ہوگا۔تفسیر۔عَيْنٌ جَارِيَةٌ سے مراد ایسا کام جو ہمیشہ ہمیش کے لئے چلتا چلا جائے مومن جس جنّت میں رہیں گے اس میں ایک جاری چشمہ ہو گا۔اگلے جہان میں تو یہ ہو گا ہی۔اس کے متعلق کسی تفصیل کی ضرورت نہیں۔نہ میں نے اسے دیکھا ہے اور نہ کسی اور نے، یہ ایک ایمانی معاملہ ہے۔لیکن دنیا کے لحاظ سے یہ معنے ہیں کہ وہ ایسے علوم اپنے ورثہ میں چھوڑیں گے اور ایسے سلوک بنی نوعِ انسان سے کریں گے جن کا اثر عرصۂ دراز تک چلتا چلا جائے گا۔کچھ لوگوں کا احسان صرف وقتی ہوتا ہے لیکن کچھ لوگوں کا احسان صدقۂ جاریہ کا رنگ اپنے اندر رکھتا ہے مثلاً کسی غریب کو ایک پیسہ دے دینا یہ بھی احسان ہے مگر جب وہ اس پیسے سے روٹی خرید کر کھا لیتا ہے تو اس احسان کا دائرہ ختم ہو جاتا ہے لیکن ایک احسان یہ ہے کہ کسی کو دین کی باتیں سکھائی جائیں یا اخلاقی لحاظ سے اعلیٰ تربیت دی جائے یہ احسان بڑا وسیع ہے یا مثلاً کسی کو کوئی پیشہ سکھا دینا یا کسی کو پیشہ چلانے کے لئے مدد دے دینا یا اسے اپنے پیشہ کے چلانے کے لئے ہتھیار خرید دینا یہ احسان اپنے اندر بہت بڑی وسعت رکھتا ہے۔روٹی دے دینا اور قسم کا احسان ہے اور پیشہ سکھا دینا یا پیشہ کے چلانے کے لئے روپیہ سے امداد کرنا یا ہتھیار وغیرہ خرید دینا یہ اور قسم کا احسان ہے پہلی قسم کا صدقہ ختم ہو گیا مگر یہ صدقہ صدقہ جاریہ ہے فِیْھَا عَیْنٌ جَارِیَۃٌ سے