تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 128
ہوتا ہے اور بعض دفعہ ایک کام کرنے سے پہلے برا معلوم دیتا ہے اور کرنے کے بعد اچھا۔اگر کوئی کام کرنے سے پہلے بھی اچھا نظر آئے اور کرنے کے بعد بھی اچھا نظر آئے تو وہی کام قابلِ قدر ہوتا ہے جیسے حدیث میں آتا ہے کہ ایک صحابی جنگ میں شہید ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے خوش ہو کر فرمایا جو کچھ مجھ سے مانگنا چاہتے ہو مانگو میں تمہاری ہرخواہش پوری کرنے کے لئے تیار ہوں۔اگر انہوں نے علیٰ وجہ البصیرت شہادت کو قبول نہ کیا ہوتا تو وہ کہتے کہ خدایا میری خواہش یہ ہے کہ تو مجھے زندہ کر دے میں نے بے وقوفی کی جو جنگ میں شامل ہوا اور مارا گیا اب تو مجھے پھر زندہ کر دے تا کہ میں اپنے بیوی بچوں کے پاس جاؤں مگر انہوں نے یہ نہیں کہا کیونکہ انہوں نے جب شہادت کو مستقبل کے افق میں دیکھا تھا تب بھی یہ نتیجہ نکالا تھا کہ یہ اچھی چیز ہے اور جب اس درجہ کو پالیا اور ماضی کی طرف نگاہ دوڑاتے ہوئے اپنی شہادت کو دیکھا تو اس وقت بھی انہوں نے یہی نتیجہ نکالا کہ یہ اچھی چیز ہے چنانچہ انہوں نے کہا یا اللہ میرا دل یہ چاہتا ہے کہ تو مجھے زندہ کر دے تا کہ میں پھر تیری راہ میں شہید ہو جاؤں (ترمذی کتاب التفسیـر باب سورۃ اٰل عـمران) گویا مرنے کے بعد بھی انہوں نے اپنی شہادت کو اچھی نگاہ سے دیکھا۔تو کام کو شروع کرنے سے پہلے اور اس کے ختم ہونے کے بعد دونوں نقطہ ہائے نگاہ سے دیکھنے کے نتیجہ میں ہی کسی کام کی حقیقی خوبی ظاہر ہوتی ہے اور لِسَعْيِهَا رَاضِيَةٌ میں اسی مضمون کی طرف اشارہ ہے جہاں لوگ ان کو حسین پائیں گے وہ اپنے آپ کو بھی حسین پائیں گے یہ نہیں ہو گا کہ وہ بعد میں کہیں ہم نے بہت برا کیا بلکہ کام کرنے سے پہلے بھی وہ اپنے اعمال کو اچھا سمجھتے تھے اور کام کرنے کے بعد بھی ان کو اپنے اعمال خوبصورت نظر آئیں گے۔اپنے آپ کو حسین پانے کے معنے اس متکبّرانہ خیال کے نہیں جو ہر بے وقوف میں پایا جاتا ہے کہ ہم چومن دیگرے نیست کی مرض میں مبتلا ہوتا ہے یہ حالت تو نہایت خراب اور دل کی بیماری پر دلالت کرتی ہے بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ سچے غور اور فکر اور نتائج اعمال دیکھ کربھی وہ اپنے اعمال کو اچھا پائیں گے اور یہ مقام کامل کا مقام ہوتا ہے۔فِيْ جَنَّةٍ عَالِيَةٍۙ۰۰۱۱ بلند (وبالا) جنت میں (رہ رہے) ہوں گے۔تفسیر۔فرماتا ہے جب وہ لوگوں کی نگاہوں میں خوبصورت ہو جائیں گے اور اپنی نظروں میں بھی وہ حسین دکھائی دیں گے۔جب وہ ماضی سے استقبال کی طرف دیکھیںگے تب بھی وہ ان افعال پر خوش اور مطمئن