تفسیر کبیر (جلد ۱۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 127 of 405

تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 127

میں اپنے کئے پر نادم اور پشیمان ہوتا ہے اور اس کی ضمیر اسے ملامت کرتی ہے چنانچہ جب اسے کہا جائے کہ کیا اب جب کہ تم وہ کام کر چکے ہو اور وہ موقع گذر چکا ہے کیا تمہارے دل کو اطمینان ہے کہ تم نے جو کچھ کیا تھا درست کیا تھا؟ تو وہ بسا اوقات کہتا ہے کہ نہیں۔میں اپنے کام پر نادم ہوں اور مجھے اعتراف ہے کہ میں نے درست کام نہیں کیا۔لیکن اگر اس کے ضمیر کو تسلی ہوتی ہے اور وہ اپنے بیان میں سچ سے بھی کام لیتا ہے تو وہ کہتا ہے اگر میں پھر انہی حالات میں ڈالا جاؤں تو میں پھر بھی یہی کام کروں گا یعنی باوجود اس کے کہ زمانہ گذر چکا ہے میرے دل کو اس قدر اطمینان ہے کہ اگر پھر ویسے ہی حالات پیدا ہوں تو میں پھر بھی وہی کام کروں گا۔دنیا میں ہر چیز کو دو نقطہ ہائے نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔بعض دفعہ ماضی سے استقبال کی طرف دیکھا جاتا ہے اور بعض دفعہ حال سے ماضی کی طرف دیکھا جاتا ہے۔یہ الگ الگ نقطہ ہائے نگاہ ہوتے ہیں۔کبھی ہم ماضی سے مستقبل کی طرف دیکھتے ہیں تو ایک چیز ہمیں اچھی معلوم ہوتی ہے مگر جب وہ استقبال ماضی میں بدل جاتا ہے اور ہم غور کرتے ہیں تو وہ فعل ہمیں برا محسوس ہونے لگتا ہے لیکن کبھی ایسا ہوتا ہے کہ جب ہم ماضی سے مستقبل کے نتیجہ کو دیکھتے ہیں اس وقت بھی وہ ہمیں اچھا معلوم ہوتا ہے اور جب وہ وقت گذر جاتا ہے نتائج روشن ہو جاتے ہیں اور ہم حال سے ماضی کی طرف دیکھتے ہیں تب بھی وہ کام ہمیں اچھا معلوم ہوتا ہے۔جو کام اعلیٰ درجے کا ہو اس کی علامت یہی ہے کہ اسے ماضی سے استقبال کے نقطہ نگاہ سے دیکھیں تب بھی وہ اچھا معلوم دے اور جب حال سے ماضی کی طرف دیکھا جائے تب بھی وہ اچھا معلوم دے۔اسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتا ہے لِسَعْيِهَا رَاضِيَةٌ مسلمان ماضی کے مقام پر کھڑے ہو کر جب استقبال کی طرف دیکھیں گے تب بھی ان کو وہ اعمال جن کے کرنے کا انہوں نے تہیہ کیا ہے خوبصورت نظر آئیں گے اور جب وہ ان کاموں کو کر چکیں گے اور مستقبل کے مقام پر کھڑے ہو کر ماضی کی طرف دیکھیں گے تب بھی ان کو وہ اعمال خوبصورت نظر آئیں گے گویا آگے اور پیچھے دونوں طرف ان کے حُسن ہی حُسن ہو گا۔یہ ایسی ہی بات ہے جیسے گھوڑا خریدنے والے کبھی اس کو سامنے کی طرف سے دیکھتے ہیں اور کبھی اس کو پیچھے کی طرف سے دیکھتے ہیں۔بعض جانور سامنے سے تو خوبصورت معلوم ہوتے ہیں مگر وہ پیچھے سے بدصورت نظر آتے ہیں اور بعض پیچھے کی طرف سے خوبصورت نظر آتے ہیں اور سامنے سے بدصورت نظر آتے ہیں۔اچھا جانور وہی ہوتا ہے جو سامنے سے بھی اچھا نظر آئے اور پیچھے کی طرف سے بھی اچھا نظر آئے۔انسانی اعمال کی بھی یہی دو حالتیں ہوتی ہیں بعض دفعہ ایک کام کرنے سے پہلے بھی اچھا معلوم ہوتا ہے اور کرنے کے بعد بھی اچھا معلوم ہوتا ہے اور بعض دفعہ ایک کام کرنے سے پہلے خوبصورت نظر آتا ہے اور کرنے کے بعد برا معلوم