تفسیر کبیر (جلد ۱۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 126 of 405

تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 126

حُسنِ سلوک کا جذبہ ہو گا تووہ لوگوں کو بے انتہا پیارے لگنے لگ جائیں گے پس وُجُوْهٌ يَّوْمَىِٕذٍ نَّاعِمَةٌ میں صحابہ کے یا مومنوں کے اخلاق فاضلہ کی طرف اشارہ ہے یعنی ایسے اعلیٰ درجہ کے اخلاق اور حسنِ سلوک کی خدا ان کو توفیق عطا فرمائے گا کہ وہ دنیا کی نگاہ میں بڑے خوبصورت اور حسین نظر آئیں گے اور اگر اس سے تقویٰ اور علم مراد ہو تو وہ ظاہر ہی ہے اس کی تشریح کی ضرورت نہیں۔لِّسَعْيِهَا رَاضِيَةٌۙ۰۰۱۰ اپنی (سابقہ) کوششوں پر مطمئن ہوں گے۔تفسیر۔دنیا میں بعض دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ ایک انسان دوسرے سے حسنِ سلوک کرتا ہے مگر وہ اپنے کئے پر خوش نہیں ہوتا جیسے ریاء والا ہوتا ہے کہ وہ بعض دفعہ ہزاروں لاکھوں روپیہ بھی چندہ میں دے دیتا ہے اور لوگ اسے دیکھ کر کہتے ہیں سبحان اللہ واہ واہ اس نے کتنی بڑی قربانی کا نمونہ دکھایا مگر اس کا دل اندر سے خون ہو رہا ہوتا ہے یا وہ دکھاوے کے لئے صدقہ کرتا ہے تو لوگ اس کی تعریف کرتے ہیں مگر اس کی جان اندر سے ہلکان ہو رہی ہوتی ہے اور وہ سمجھتا ہے کہ میں نے اپنے روپے کو ضائع کیا ہے۔تو صرف ظاہر میں تعریف کا ہو جانا اور لوگوں کی نگاہ میں حسین بن جانا کافی نہیں ہوتا بلکہ اپنی نگاہ میں بھی حسین بننا ضروری ہوتا ہے۔لوگوں کی نگاہ میں تو ایک ریاکار بھی حسین ہو جاتا ہے مگر وہ اپنے دل میں جل رہا ہوتا ہے کہ میں تباہ ہو گیا۔لیکن فرماتا ہے وہ ایسے کامل وجود ہوں گے کہ ان میں یہ نقص نہ ہو گا۔چنانچہ وُجُوْهٌ يَّوْمَىِٕذٍ نَّاعِمَةٌ لِّسَعْيِهَا رَاضِيَةٌ کا اگر ہم معنوی لحاظ سے ترجمہ کریں تو یوں ہو گا کہ کچھ چہرے ایسے ہوں گے یا کچھ افراد ایسے ہوں گے کہ ایک دن آئے گا جب کہ وہ دنیا کی نگاہ میں حسین ہو جائیں گے لِسَعْيِهَا رَاضِيَةٌ اور اپنی نگاہ میں بھی حسین ہوں گے اور وہ اپنے کئے پر خوش ہوں گے ان میں یہ احساس نہیں ہو گا کہ ہم نے لوگوں کے لئے قربانی کر کے اپنے اوپر ظلم کیا ہے بلکہ وہ جس قدر خدمات سرانجام دیں گے، جس قدر قربانیاں کریں گے، جس قدر احسانات کریں گے ان کے دل اور زیادہ خوش ہوں گے۔گویا ایمان اور اخلاص اور محبت باللہ سے ان کے قلوب اس طرح پُر ہوں گے کہ صرف لوگ ہی ان کو دیکھ کر خوش نہیں ہوں گے بلکہ وہ خود بھی اپنے کاموں کو دیکھ کر خوش ہوں گے۔یہ ویسی ہی بات ہے جیسے محاورہ کے طور پر کہا جاتا ہے کہ اگر مجھے پھر موقع ملے تو میں پھر بھی یہی کام کروں گا۔بعض دفعہ ایک انسان ایک کام تو کر لیتا ہے مگر بعد