تفسیر کبیر (جلد ۱۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 9 of 405

تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 9

الْقِيٰمَةِ(اٰل عـمران:۵۶) یعنی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے عیسٰی میں تجھے طبعی طور پر وفات دوں گا اور تجھے اپنے حضور عزت بخشوں گا۔اور کافروں کے الزامات سے تجھے پاک کروں گا اور جو تیرے پیرو ہیں انہیں ان لوگوں پر جو منکر ہیں قیامت کے دن تک غالب رکھوں گا۔سلسلہ کا پہلا اور آخری نبی قتل نہیں ہوتا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے بھی تحریر فرمایا ہے کہ سلسلہ کا پہلا اور آخری نبی کبھی قتل نہیں ہو سکتا اللہ تعالیٰ اس کی خود حفاظت کیا کرتا ہے چنانچہ حضور فرماتے ہیں:۔’’اگرچہ قتل ہونا مومن کے لئے شہادت ہے لیکن عادت اللہ اسی طرح ہے کہ دو قسم کے مرسل من اللہ قتل نہیں ہوا کرتے۔(۱) ایک وہ نبی جو سلسلہ کے اوّل پر آتے ہیں جیسا کہ سلسلہ موسویہ میں حضرت موسٰی اور سلسلہ محمدؐیہ میں ہمارے سیّد ومولیٰ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم (۲) دوسرے وہ نبی اور مامور من اللہ جو سلسلہ کے آخر میں آتے ہیں جیسے کہ سلسلہ موسویہ میں حضرت عیسٰی علیہ السلام اور سلسلہ محمدؐیہ میں یہ عاجز‘‘ (تذکرۃ الشہادتین روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحہ ۶۹،۷۰) پس اِنْ کُلُّ نَفْسٍ سے مراد اِنْ کُلُّ نَفْسٍ مِنْ ھٰذِہِ الطَّائِفَۃِ ہے اگر ہم نفس سے مراد عام نفس لے لیں تو گو سارے نفسوں کی حفاظت کا قرآن کریم سے بھی پتہ لگتا ہے اور حدیثوں سے بھی پتہ لگتا ہے مگر مجھے ان معنوں کا اَلنَّجْمُ الثَّاقِبُ سے کوئی جوڑ نظر نہیں آتا لیکن جو معنے میں کرتا ہوں ان سے آیات کا جوڑ بالکل واضح ہو جاتا ہے کہ اس قسم کے لوگ جو اَلنَّجْمُ الثَّاقِبُ ہوں اللہ تعالیٰ ان کی خود حفاظت کرتا اور انہیں دشمنوں کی شرارتوں اور منصوبوں سے محفوظ رکھتا ہے ثاقب اسی لئے فرمایا کہ وہ دوسروں کو مارے گا۔اس کو کوئی نہیں مار سکتا۔فرماتا ہے یہ وہ ستارہ ہے جو دوسروں کو چھید ڈالے گا مگر اس قسم کے آدمیوں کو اور کوئی چھید نہیں سکتا۔فَلْيَنْظُرِ الْاِنْسَانُ مِمَّ خُلِقَؕ۰۰۶ پس انسان کو دیکھنا چاہیے کہ وہ کس چیز سے پیدا کیا گیا ہے۔خُلِقَ مِنْ مَّآءٍ دَافِقٍۙ۰۰۷ وہ ایک اچھلنے والے پانی سے پیدا کیا گیا ہے۔