تفسیر کبیر (جلد ۱۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 125 of 405

تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 125

آپ کی شکل کو دیکھنا بھی گوارا نہیں کیا۔پہلے تو آپ سے کوئی زیادہ واقفیت ہی نہیں تھی کہ شکل یاد ہوتی۔دعویٰ کے بعد یہ حالت ہو گئی کہ آپ سامنے سے آرہے ہوتے تو میں اپنی آنکھیں نیچی کر لیتا کہ نعوذ باللہ آپ کی شکل کو میں نہ دیکھ لوں۔اس کے بعد جب مجھے ایمان نصیب ہوا تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مجھے وہ جلال، وہ حسن اور وہ نور نظر آیا کہ اس کے بعد مجھے جرأت ہی نہیں ہوئی کہ میں آپ کے چہرہ پر نظر ڈال سکوں۔چنانچہ آج اگر مجھ سے کوئی شخص رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کا حلیہ دریافت کرے تو میں اسے نہیں بتا سکتا۔کیونکہ کفر کی حالت میں آپ کی شکل سے زیادہ بد صورت مجھے کوئی اور شکل نظر نہیں آتی تھی اور ایمان کی حالت میں آپ کی شکل سے زیادہ خوبصورت مجھے کوئی اور شکل نظر نہیں آتی تھی اس لئے دونوں حالتوں میں مَیں آپ کو دیکھ نہ سکا۔گویا کفر کی حالت میں انتہائی نفرت کی وجہ سے نہ دیکھ سکے اور ایمان کی حالت میں آپ کے جلال اور آپ کے حسن کو برداشت کرنے کی طاقت نہ رکھنے کی وجہ سے نہ دیکھ سکے (صحیح مسلم کتاب الایمان باب کون الاسلام یـھدم ما قبلہ)۔وُجُوْهٌ يَّوْمَىِٕذٍ نَّاعِمَةٌ کے ظاہری معنے حقیقت یہی ہے کہ ایک ہی چیز کو انسان بعض حالات میں اچھا اور بعض حالات میں برا سمجھنے لگ جاتا ہے اور محبت یا نفرت کی وجہ سے شکلیں بھی بدل جاتی ہیں۔ہم نے بیسیوں میاں بیوی کی لڑائیاں دیکھی ہیں پہلے وہ ایک دوسرے کے عاشقِ زار ہوتے ہیں اور میاں سمجھتا ہے کہ خدا نے مجھے دنیا کی حسین ترین بیوی عطا فرمائی ہے مگر جب لڑائی ہو جاتی ہے تو خاوند کہتا ہے کہ اس کی شکل ہی اتنی بری ہے کہ دیکھنے کے قابل ہی نہیں۔غرض نَاعِـمَۃٌ کے اگر ظاہری معنے لئے جائیں تو وُجُوْهٌ يَّوْمَىِٕذٍ نَّاعِمَةٌ کا مفہوم یہ ہو گا کہ وہ ایسے مقبولِ جہاں ہو جائیں گے کہ لوگوں کو حسین نظر آنے لگ جائیں گے۔یہ ضروری نہیں کہ ان کی شکلیں بھی حسین ہوں بلکہ وہ دنیا کو حسین اور خوبصورت معلوم ہونے لگ جائیں گے۔جب وہ دنیا کے محسن ہوں گے، جب وہ خدمت خلق کرنے والے ہوں گے، جب وہ یتامیٰ سے حُسنِ سلوک کرنے والے ہوں گے، جب وہ غریبوں سے ہمدردی کرنے والے ہوں گے، جب وہ گرے ہوئے لوگوں کو اٹھانے والے ہوں گے تو وہ لوگ دنیا کو تمام دوسرے لوگوں کی نسبت زیادہ خوبصورت اور اچھے نظر آنے لگ جائیں گے اور دوسرے لوگوں کے چہرے ان کے مقابلہ میں انہیں حسین نظر نہیں آئیں گے۔پس اگر ہم اس کے ظاہری معنے لیں تب بھی وہ صحیح ہوں گے مگر اس طرح نہیں کہ ان کی شکلیں خوبصورت ہو جائیںگی بلکہ جیسے محاورہ کے طور پر کہتے ہیں پرنالہ چلتا ہے اور مراد یہ ہوتا ہے کہ پرنالہ میں پانی چلتا ہے اسی طرح اس کا یہ مطلب ہو گا کہ وہ اپنے احسان کی وجہ سے حسین نظر آنے لگ جائیں گے۔جب ان میں احسان کا مادہ ہو گا ، جب ان میں نیکی ہو گی، جب ان میں عفت ہو گی، جب ان میں