تفسیر کبیر (جلد ۱۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 124 of 405

تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 124

ہوئے ہیں کل وُجُوْہٌ بن جائیں گے۔وُجُوْهٌ يَّوْمَىِٕذٍ نَّاعِمَةٌ کے روحانی لحاظ سے معنے پھر وُجُوْہٌ کے ساتھ نَاعِـمَۃٌ کا لفظ بڑھا دیا اور نَاعِـمَۃٌ کے دو معنے بتائے جا چکے ہیں۔حسن و نضارت والے اور یہ بھی کہ وہ مُتَنَعِّمَۃ ہوں گے۔یعنی بڑی بڑی نعمتیں ان کو حاصل ہوں گی۔ذاتی طور پر بھی وہ کمال رکھیں گے اور ماحول کے لحاظ سے بھی کمال رکھیں گے جہاں ان کو ذاتی طور پر نعمتیں حاصل ہوں گی وہاں اللہ تعالیٰ ان کو بیرونی نعمتیں بھی عطا کرے گا۔ظاہری معنوں کے لحاظ سے یہ مراد ہو گی کہ وہ حسین، خوبصورت اور صاحب اموال ہوں گے اور روحانی لحاظ سے یہ معنے ہوں گے کہ وہ متقی اور صاحب علوم ہوں گے یعنی متقی بھی ہوں گے اور علومِ روحانیہ بھی ان کو حاصل ہوں گے۔اپنی ذات میں بھی کامل عرفان اور استغناء ان کو حاصل ہو گا اور ان کے پاس ایسے علوم اور اموال بھی ہوں گے جو دوسروں کو سکھا سکیں اور دے سکیں۔حسن ایک ذاتی چیز ہے اور مال ایسی چیز ہے جو دوسرے کو دی جا سکتی ہے۔اسی طرح تقویٰ ایسی چیز ہے جو انسان کسی کونہیں دے سکتا لیکن علم ایسی چیز ہے جو دوسرے کو دے سکتا ہے۔پس بتایا کہ جیسے ظاہری لحاظ سے حسن اور مال دونوں نعمتیں ان کو حاصل ہوں گی اسی طرح باطنی لحاظ سے تقویٰ بھی ان میں پایا جائے گا اور علم بھی ان کو عطا ہو گا۔ظاہری لحاظ سے وُجُوْهٌ يَّوْمَىِٕذٍ نَّاعِمَةٌ کے یہ معنے ہوں گے کہ وہ اس دن بڑے حسین نظر آ رہے ہوں گے بظاہر یہ سمجھنا مشکل معلوم ہوتا ہے کہ کسی خاص وقت کوئی شخص حسین کس طرح ہو جائے گا۔مگر حقیقت یہ ہے کہ جس کے ساتھ محبت کا تعلق ہو وہ بہت ہی خوبصورت دکھائی دیتا ہے اور اس آیت میں اسی طرف اشارہ ہے کہ بوجہ ذاتی تقویٰ اور احسان کے وہ لوگوں کے محبوب ہو جائیں گے اور خواہ ان کی شکل کیسی ہی ہو وہ لوگوں کو حسین نظر آئیں گے جیسے ہر باپ کو اپنا بیٹا اور ہر بیٹے کو اپنا باپ حسین نظر آتا ہے۔حضرت عمرو بن العاصؓ مسلمان ہونے سے پہلے اسلام کے شدید مخالف تھے جب وہ وفات پانے لگے تو سخت گھبرا رہے تھے کہ میں اللہ تعالیٰ کو کیا منہ دکھاؤں گا۔ان کے بیٹے نے کہا کہ آپ یہ کیا کہہ رہے ہیں آپ کو تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں بڑی بڑی خدمتوں کے مواقع ملے ہیں انہوں نے کہا ہاں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں بے شک خدمتوں کے مواقع ملے تھے مگر آپ کے بعد جن حالات میں سے ہم گذرے ہیں ان کو دیکھتے ہوئے ڈر آتا ہے کہ نامعلوم اللہ تعالیٰ ہم سے کیا معاملہ کرے۔پھر کہنے لگے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اگر کوئی حلیہ مجھ سے پوچھے تو میں نہیں بتا سکتا آپ کے متعلق مجھ پر دو زمانے گذرے ہیں ایک وقت تو وہ تھا جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعویٰ کیا ا ور مجھے اس دعویٰ سے اس قدر نفرت پیدا ہوئی کہ میں نے اس دن کے بعد