تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 123
حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے والد بھی اس میں موجود تھے کہ کسی نے کہا مدینہ سے خبر آئی ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم فوت ہو گئے ہیں۔لوگوں نے پوچھا پھر کیا ہوا؟ اس نے بتایا کہ مسلمانوں نے ایک شخص کو خلیفہ مقرر کر کے اس کے ہاتھ پر بیعت کر لی ہے۔انہوں نے پوچھا کس کے ہاتھ پر بیعت کی گئی ہے؟ اس نے جواب دیا ابو بکرؓ کے ہاتھ پر۔حضرت ابوبکرؓ کے والد جو اسی مجلس میں بیٹھے تھے یہ سن کر کہنے لگے کس ابوبکر کے ہاتھ پر؟ یعنی ان کے ذہن میں بھی یہ نہیں آ سکتا تھا کہ میرے بیٹے ابوبکرؓ کو بادشاہ تسلیم کر لیا جائے گا اس نے کہا ابن ابی قحافہ۔یعنی تمہارے بیٹے کے ہاتھ پر بیعت کی گئی ہے۔انہوں نے ایک ایک خاندان اور قبیلہ کا نام لے کر پوچھنا شروع کیا کہ کیا انہوں نے بھی بیعت کر لی ہے؟ اور اس نے جواب دیا کہ ہاں۔تب بے اختیار ہو کر وہ بولے کہ اَشْھَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَاشَـرِیْکَ لَہٗ وَاَشْھَدُ اَنَّ مُـحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَرَسُوْلُہٗ حالانکہ وہ پہلے ہی مسلمان تھے ان کے کلمہ طیبہ کے پڑھنے کے معنے ہی یہ تھے کہ یہ بھی ثبوت ہے اس بات کا کہ اسلام سچا ہے۔ورنہ یہ کس طرح ہو سکتا تھا کہ ابوقحافہ کے بیٹے کے ہاتھ پر تمام قبائل عرب بیعت کر لیتے۔غرض اسلام کی بدولت ایک شخص ادنیٰ حالت سے ترقی کرتا ہے اور اس مقام پر پہنچ جاتا ہے کہ باپ کو یقین نہیں آتا کہ اسے یہ مقام حاصل ہو گیا ہے حالانکہ لوگ اپنے بیٹوں کے متعلق بڑے وسیع اندازے لگایا کرتے ہیں۔کئی لوگ کہا کرتے ہیں کہ ہمارا بیٹا بڑا لائق ہے اور جب پوچھا جائے کیا لیاقت ہے؟ تو کہتے ہیں کتاب فر فر پڑھ لیتا ہے۔ان کے نزدیک ایک معمولی کتاب کو پڑھ لینا بھی بہت بڑے علم کا ثبوت ہوتا ہے خواہ وہ اپنی زبان کے اشعار ہی ہوں یا خواہ فر فر بھی نہ پڑھتا ہو وہ کہیں گے یہی کہ ہمارا بیٹا بڑا لائق ہے کتاب کو فر فر پڑھ لیتا ہے۔پس حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے باپ کے نزدیک ان کے بیٹے کی سب سے زیادہ قدر ہونی چاہیے تھی مگر ان کے باپ کی یہ حالت ہے کہ انہیں یقین تک نہ آیا کہ ان کے ہاتھ پر مسلمانوں نے بیعت کر لی ہے۔پس ابوجہل بڑا ہو کر چھوٹا ہو گیا اور ابو بکر چھوٹا ہو کر بڑا بن گیا۔یہی مفہوم ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے اس الہام میں ادا کیا گیا ہے کہ ’’کئی چھوٹے ہیں جو بڑے کئے جائیں گے اور کئی بڑے ہیں جو چھوٹے کئے جائیں گے‘‘ (تذکرہ صفحہ۴۵۳ ایڈیشن چہارم) گویا ایک کی ابتدا بڑے ہونے سے ہوئی اور انتہا چھوٹے ہونے پر ہوئی اور ایک کی ابتدا چھوٹے ہونے سے ہوئی اور انتہا بڑے ہونے پر ہوئی۔ایک کا وُجُوْہٌ نام رکھا گیا ہے ابتدا کی وجہ سے اور دوسرے کا وُجُوْہٌ نام رکھا گیا ہے انتہا کی وجہ سے۔ورنہ ایک ملک کے وہ دونوں سردار نہیں ہو سکتے تھے وہ تو ایک دوسرے کے مدمقابل تھے۔پس اس جگہ یہی بتایا گیا ہے کہ اے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا مقابلہ کرنے والو! تم آج وُجُوْہٌ ہو کل خَاشِعَۃٌ ہوجاؤ گے۔مسلمان آج گرے