تفسیر کبیر (جلد ۱۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 114 of 405

تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 114

ہے۔جب میں تبلیغ سے فارغ ہوا تو وہ کہنے لگے آپ نے مجھے تو تبلیغ کر لی ہے اور آپ کی باتیں بھی معقول ہیں لیکن میرے سوا اور کسی کو آپ تبلیغ نہ کریں ورنہ آپ کی جان کی خیر نہیں۔لوگ بہت جوش میں ہیں اگر آپ نے تبلیغ کی تو خطرہ ہے کہ آپ پر کوئی شخص حملہ نہ کر بیٹھے یا حکومت ہی آپ کو قید نہ کر دے۔میں نے اس پر تعجب کا اظہار کیا تو انہوں نے کہا کہ آپ کو معلوم نہیں آپ کے خلاف بعض لوگوں نے یہاں اشتہار شائع کیا ہے اور لوگ سخت جوش میں بھرے ہوئے ہیں۔میں نے کہا کس نے وہ اشتہار شائع کروایا ہے؟ تو انہوں نے کہا ایک تو اس اشتہار کے محرک فلاں مولوی صاحب ہیں۔میں نے کہا وہ تو میرے ماموں ہیں۔اور کون صاحب ہیں؟ انہوں نے کہا دوسرے بھوپال کے ایک رئیس ہیں جن کا نام خالد ہے۔ان دونوں نے آپ کے خلاف اشتہار دیا ہے یا دلوایا ہے اور لکھا ہے کہ اگر انہیں اپنے دعاوی کی صداقت پر یقین ہے تو مولوی ابراہیم صاحب سیالکوٹی سے مباحثہ کر لیں۔مولوی ابراہیم صاحب سیالکوٹی بھی ان دنوں وہیں تھے اور ہمارے ماموں کا یہ خیال تھا کہ مکہ میں چونکہ باقاعدہ حکومت کوئی نہیں اس لئے اگر مباحثہ ہوا تو لوگ انہیں مار ڈالیں گے اور اس طر ح ایک کانٹا نکل جائے گا۔مولانا عبدالستارصاحب کبتی فرمانے لگے میں نے مولوی ابراہیم صاحب سیالکوٹی سے کہا ہے کہ کہیں جوش میں مباحثہ نہ کر بیٹھنا کیونکہ یہاں احمدیوں کی اتنی مخالفت نہیں جتنی وہابیوں کی ہے اس لئے لوگوںکو کیوں خواہ مخواہ اپنے خلاف اشتعال دلاتے ہو۔احمدیوں کے خلاف کسی کو اشتعال آیا یا نہ آیا تمہارے خلا ف تو لوگ ضرور بھڑک اٹھیں گے اس لئے وہ تو شاید اس ڈر سے مقابلہ نہ کریں کہ کہیں شورش زیادہ نہ ہو جائے مگر آپ کسی اور کو اب تبلیغ نہ کریں ایسا نہ ہو کہ آپ کو کوئی نقصان پہنچ جائے۔میں نے کہا آپ کس کی طرف سے زیادہ خطرہ سمجھتے ہیں؟ انہوں نے ایک عالم کا نام لیا کہ اسے تو بالکل تبلیغ نہ کرنا۔میں نے کہا میں تو اسے ایک گھنٹہ تبلیغ کر کے آ رہا ہوں۔وہ حیران ہو کر بولے پھر کیا ہوا؟ میں نے کہا کہ تھوڑی تھوڑی دیر کے بعد وہ غصہ اور جوش کی حالت میں کہہ دیتے تھے کہ نہ ہوئی تلوار ہمارے قبضہ میں ورنہ تمہارا سر اڑا دیتا۔غرض وہ ہمارے ماموں اور بھوپال کے رئیس ہمارے خلاف لوگوں کو خوب بھڑکاتے رہے لیکن ادھر حج ختم ہوا اور اُدھر مکہ میں ہیضہ پھوٹ پڑا جو اتنا شدید تھا کہ لوگ گلیوں میں مردوں کو پھینک دیتے تھے دفن کرنے کا موقع ہی نہیں ملتا تھا یہ دیکھ کر نانا جان گھبرا گئے اور انہوں نے کہا کہ ہمیں جلدی واپس چلنا چاہیے۔چنانچہ ہم نے واپسی کی تیاری شروع کر دی اور آخری ملاقات کے لئے نانا جان صاحب مرحوم اپنی بہن اور بھانجا سے ملنے کے لئے ان کے مکان پر گئے میں بھی ساتھ تھا۔جب ہم وہاں پہنچے تو دیکھا کہ ایک جنازہ