تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 115
پڑا ہے لوگ جمع ہیں اور تدفین کی تیاری ہو رہی ہے۔نانا جان نے ان لوگوں سے پوچھا کہ یہ کس کا جنازہ ہے؟ لوگوں نے ہمارے ماموں کا نام لیا کہ ان کا انتقال ہو گیا ہے۔منٰی سے واپس آئے تھے کہ ہیضہ کا حملہ ہو گیا اور تھوڑی دیر میں ہی فوت ہو گئے۔ایک کا تو یہ حال ہوا۔جب ہم جدّہ پہنچے تو جدّہ کے انگریزی قنصل خانہ میں بھی ہمارے ننھیال کے ایک رشتہ دار ہیڈ کلرک تھے۔بھوپال کے جس رشتہ دار کا میں نے ذکرکیا ہے وہ تو نانا جان مرحوم کے رشتہ داروںمیں سے تھے اور یہ نانی اماں صاحبہ مرحومہ کے رشتہ داروں میں سے تھے۔یہ ایک عجیب بات ہے کہ ہمارے جتنے رشتہ دار نانا جان مرحوم کی طرف سے تھے وہ بالعموم مخالف تھے اور جتنے نانی اماں کی طرف سے تھے وہ بالعموم محبت کرنے والے تھے (مگر اب حالات وہ نہیں رہے) یہ غالبًا ان کی خالہ کے لڑکے تھے اور ہم سے بہت محبت کرتے تھے۔جہاز چونکہ کم تھے اور لوگ جلدی واپس ہونا چاہتے تھے اس لئے ٹکٹ ملنے میں سخت دشواری تھی۔ہم نے ان سے کہا کہ ٹکٹوں کا جلدی انتظام کر دیں تاکہ ہم پہلے جہاز میں واپس ہو سکیں۔انہوں نے جہاز ران کمپنی کے دفتر میں مجھے بٹھا دیا اور میں اس کی کھڑکی کے قریب بیٹھ گیا۔یہ کھڑکی بہت اونچی تھی اور وہاں ہاتھ بمشکل اونچا کر کے پہنچ سکتا تھا۔اتنے میں ایک نوجوان جو دبلے پتلے سفید رنگ کے تھے اس کھڑکی کے نیچے آئے انہوں نے مجھے بیٹھے ہوئے دیکھ کر خیال کیا کہ شاید میں کمپنی کا ملازم ہوں چنانچہ مجھ سے پوچھنے لگے کہ آپ یہاں کیوں بیٹھے ہیں؟ میں نے کہا آپ کا اس سے کیا مطلب؟ انہوں نے کہا میرا مقصد یہ ہے کہ کیا آپ کمپنی میں کام کرتے ہیں؟ میں نے کہا میں تو کمپنی میں کام نہیں کرتا۔کہنے لگے تو کیا کمپنی سے کوئی اور تعلق ہے؟ میں نے کہا میرا کمپنی سے کسی قسم کا تعلق نہیں۔وہ کہنے لگے پھر آپ کمپنی کے دفتر میں بیٹھے کیوں ہیں؟ میں نے کہا میرے ایک عزیز مجھے یہاں بٹھا گئے ہیں اور وہ خود ٹکٹوں کی خرید کا انتظام کر رہے ہیں۔اس پر انہوں نے کہا کہ ہمارا قافلہ تیس بتیس عورتوں اور مردوں پر مشتمل ہے اور اس وقت سخت مصیبت کا سامنا ہے مگر ہمیں سب سے زیادہ فکر عورتوں کا ہے ہیضہ کی وجہ سے عورتیں تو پاگل ہو رہی ہیں اگر آپ دس بارہ ٹکٹ خرید دیں تو ہم عورتوں کو یہاں سے نکال دیں مردوں کے ساتھ جو گذرے گی گذر جائے گی۔میں نے کہا عورتیں اکیلی کس طرح جائیں گی؟ اس پر وہ کہنے لگے اگر آپ دو چار اور ٹکٹ لے دیں تو کچھ مرد بھی ان کے ساتھ جا سکیں گے اور آپ کی یہ بڑی مہربانی ہو گی۔میں نے کہا ٹکٹوں کی خرید کے ساتھ میرا کوئی تعلق تو نہیں مگر میں کوشش کرتا ہوں۔وہ فوراً پیچھے پلٹ کر گئے اور واپس آ کر ایک تھیلی روپوں کی انہوں نے مجھے پکڑا دی۔جب میرے وہ عزیز