تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 112
غرض اس آیت میں یہ بتایا گیا ہے کہ کفار ایسے حالات میں سے گذریں گے کہ ان کو بڑے بڑے تلخ گھونٹ پینے پڑیں گے۔حضرت مسیح موعودؑ کے مخالفین کے لئے تُسْقٰى مِنْ عَيْنٍ اٰنِيَةٍ کا نظارہ میں نے شروع میں بتایا ہے کہ یہ سورۃ دونوں زمانوں کے ساتھ تعلق رکھتی ہے۔اسلام کے ابتدائی زمانہ کے ساتھ بھی اور موجودہ زمانہ کے ساتھ بھی۔تُسْقٰى مِنْ عَيْنٍ اٰنِيَةٍ میں کفار کے متعلق اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو خبر دی گئی تھی وہ اس زمانہ میں بھی بڑی صفائی کے ساتھ پوری ہوئی ہے۔مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے شدید مخالف تھے اور ان کی ساری عمر آپ کی مخالفت کرتے گذر گئی۔انہوں نے ایک دفعہ بڑی تعلّی کے ساتھ کہا تھا کہ میں نے ہی مرزا صاحب کو اونچا کیا تھا اور اب میں ہی ان کو نیچے گراؤں گا۔(اشاعۃ السنہ جلد ۱۳ صفحہ ۴) مگر اس کے بعد انہوںنے حضرت مرزا صاحب کو کیا گرانا تھا خود ہی ذلیل ہوتے گئے یہاں تک کہ ان کے دو بیٹے بھاگ کر قادیان میں میرے پاس آئے اور انہوں نے کہا کہ ہمارا باپ اتنا بے غیرت ہے کہ وہ ہمیں کہتا ہے کہ ہم کسی یتیم خانہ میں داخل ہو جائیں۔وہ ہمیں ہر وقت مارتا پیٹتا ہے اور ہم سے ذلیل کام لیتا ہے ہم اب اس کے پاس نہیں رہنا چاہتے۔میں نے ان دونوں کا وظیفہ لگا دیا اور انہیں قادیان میںتعلیم دلائی۔مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کو یہ بات معلوم ہوئی تو انہوں نے کہلا بھیجا کہ اس میں میری بڑی ذلّت ہے ان کو قادیان سے نکال دیں۔مگر میں نے کہا یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ وہ میرے پا س مدد کے لئے آئیں اور میں ان کو نکال دوں۔اس کے بعد وہ دونوں احمدی ہو گئے۔اور آخر مولوی صاحب زور دے کر ان کو واپس لے گئے مگر پھر بھی ان سے ایسا سلوک کیا کہ ان میں سے ایک تو مر گیا ہے مگر دوسرا عیسائی ہو گیا اور اب تک زندہ ہے اور ریاست میسور میں کاروبار کرتا ہے وہ کہتا ہے میں دل سے تو احمدی ہوں مگر روزی کے لئے مذہب تبدیل کیا ہوا ہے۔یہ کتنا تلخ گھونٹ تھا جو مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کو پینا پڑا۔وہ شخص جس نے کہا تھا کہ میں نے ہی مرزا صاحب کو اونچا کیا تھا اور اب میں ہی ان کو نیچے گراؤں گا اس کے اپنے لڑکے ہمارے پاس مدد کے لئے آئے۔اور انہوں نے کہا کہ ہمارا باپ ہم کو مارتا ہے پیٹتا ہے اور کھانے کے لئے روٹی تک نہیں دیتا۔کہتا ہے کہ یتیم خانے میں داخل ہو جاؤ میرے پاس تمہارے لئے کچھ نہیں۔چنانچہ ہم نے ان کی مدد کی اور اپنے مدرسہ میں رکھ کر تعلیم دلائی پس یہ واقعہ مولوی محمد حسین صاحب کے لئے کتنا تلخ گھونٹ تھا جو ان کو پینا پڑا۔اسی طرح ایک اور مشہور مخالف جو ہمارے شدید مخالفوں کا سردار ہے اس کے بیٹے پر ایک مقدمہ دائرہوا۔