تفسیر کبیر (جلد ۱۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 105 of 405

تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 105

طرف سے بھی عذاب کی خبریں آ رہی ہیں یا اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہم نے تیری طرف حَدِيْثُ الْغَاشِيَةِ بھیج دی۔دشمن اب شرارت میں بڑھنے والا ہے اس لئے ہم نے بھی عذاب کی خبریں دینی شروع کر دی ہیں۔هَلْ اَتٰىكَ حَدِيْثُ الْغَاشِيَةِ میں آنحضرت صلعم کی فتح کی خبر اور غاشیہ کے معنے چونکہ اس شخص کے بھی ہوتے ہیں جس کے پاس کثرت سے لوگ آئیں اس لئے حَدِيْثُ الْغَاشِيَةِ کے معنے فتوحات کے بھی ہو سکتے ہیں اور معنے یہ ہوں گے کہ چاروں طرف سے لوگوں کے وفود تیرے پاس آئیں گے۔گویا درمیانی زمانۂ مخالفت کو چھوڑ دیا اور آخری نتیجہ بیان کر دیا کہ تیرے پاس وفود آئیں گے۔ان معنوں کے لحاظ سے حَدِيْثُ الْغَاشِيَةِ میں سال وفود کی خبر دی گئی ہے اور بتایا گیا ہے کہ کفار سے جنگ ہو گی۔تو اس جنگ میں جیت جائے گا اور پھر چاروں طرف سے لوگوں کے وفود تیرے پاس آئیں گے دشمن ان کو دیکھ دیکھ کر جل مرے گا اور مومن بہت بڑی ترقیات حاصل کریں گے۔وُجُوْهٌ يَّوْمَىِٕذٍ خَاشِعَةٌۙ۰۰۳ اس دن (جب وہ مصیبت چھا جائے گی) کچھ چہرے اترے ہوئے ہوں گے عَامِلَةٌ نَّاصِبَةٌۙ۰۰۴ (وہ) محنت کر رہے ہوں گے (اور) تھک کر چور ہو رہے ہوں گے(لیکن محنت انہیں فائدہ نہ دے گی)۔حلّ لُغات۔وُجُوْهٌ۔وُجُوْهٌ : وَجْہٌ کی جمع ہے اور وَجْہٌ کے اصل معنے تو چہرے کے ہوتے ہیں لیکن اس کے علاوہ بھی اس کے کئی معنے ہوتے ہیں چنانچہ ایک معنے سَیِّدُ الْقَوْمِ کے ہوتے ہیں یعنی قوم کا سردار۔پھر وَجْہٌ کے معنے اس انسان کے بھی ہوتے ہیں جو عزت اور وجاہت رکھتا ہو (اقرب) چنانچہ کہتے ہیں رَجُلٌ وَجْہٌ اور مراد ہوتی ہے ذُوْ جَاہٍ یعنی فلاں آدمی بڑی عزت اور وجاہت والا ہے پس وُجُوْهٌ کے معنے ہوئے کچھ لوگ جو معزز سمجھے جاتے ہیں یا کچھ لوگ جو قوم کے سردار ہیں۔خَاشِعَۃٌ۔خَاشِعَۃٌ: خَشَعَ سے اسم فاعل مؤنث کا صیغہ ہے اور خَشَعَ لَہٗ خُشَوْعًا کے معنے ہوتے ہیں ذَلَّ وَ تَطَاْمَنَ اس سے دب گیا۔اس کے ماتحت ہو گیا یا اس کے سامنے اسے جھکنا پڑا۔اور خَشَعَ بِبَصَـرِہٖ کے معنے ہوتے ہیں غَضَّہٗ اس نے اپنی آنکھیں نیچی رکھیں۔اور خَشَعَ بَصَـرُہٗ کے معنے ہوتے ہیں اِنْکَسَـرَ اس کی نظر