تفسیر کبیر (جلد ۱۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 92 of 615

تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 92

شَفَاعَتِیْ (بخاری کتاب التوحید باب قول اللہ تعالیٰ وجوہ یومئذ ناضرة الی ربھا ناظرة ) کہ انبیاء بھی شفاعت کریں گے اور ملائکہ بھی اور مومن بھی اس کے بعد اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ انبیاء نے بھی شفاعت کر لی۔ملائکہ نے بھی شفاعت کر لی مومنوں نے بھی شفاعت کر لی۔اب صرف میں باقی رہ گیا ہوں۔چنانچہ اس کے بعد اللہ تعالیٰ کی رحمت جوش میں آئے گی اور بہت سے لوگ دوزخ سے نجات پا جائیں گے۔لَا یَتَکَلَّمُوْنَ میں آنحضرت ؐ کے قیامت کے دن شفاعت کر نے کی طرف اشارہ یہ اعتراض کرنا کہ اگر یہاں شفاعت کا ذکر ہے تو پھر رسول کریم صلے اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے سوا اور لوگوں کی شفاعت کا کیوں ذکر نہیں۔درست نہ ہو گا۔کیونکہ جب بادشاہ کا ذکر کر دیا جائے تو اس کے وزراء اور سکرٹریوں وغیرہ کا ذکر اس میں شامل ہوتا ہے کیونکہ وہ اس کے تابع ہوتے ہیں۔جب یہ کہہ دیا گیا ہے کہ رسول کریم صلے اللہ علیہ وآلہٖ وسلم قیامت کے دن لوگوںکی شفاعت فرمائیں گے تو باقی انبیاء اور شہدا ء اور صلحاء وغیرہ کا اسی میں ذکر آگیا کیونکہ جب روح کامل کا ذکر کر دیا گیا تو دوسری ارواح جو اس سے نچلے درجہ کی ہیں اُن کا ذکر اسی میں خود آگیا اسی طرح گزشتہ انبیاء کی روحیں بھی اَلرُّوْحُ میں شامل سمجھی جائیں گی۔پس لَا یَتَکَلَّمُوْنَ اِلَّا مَنْ اَذِنَ لَہُ الرَّحْمٰنُ نے صاف بتا دیا کہ یہاںشفاعت کا ہی ذکر ہے اور شفاعت جس روح نے کرنی ہے وہ رسول کریم صلے اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی ہی رُوح ہے اور اَلرُّوْحُ سے مراد رسول کریم صلے اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے سوا اور کوئی نہیں۔يَوْمَ يَقُوْمُ الرُّوْحُ کا اظہار اس دنیامیں اس دنیا میں بھی ایسا ہی ہوا۔محمد رسول اللہ علیہ وسلم کی روح جب کھڑی ہوئی تو ملائکہ آپ کے ساتھ تھے۔اس لحاظ سے اس آیت کو اسلامی جنگوں کے متعلق بھی سمجھا جائے گااور مراد یہ ہو گی کہ جب دشمنوں کے مقابلہ کے لئے رسول کریم صلے اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نکلیں گے تو فرشتوں کی فوج صف باندھ کرآپ کے ساتھ ہو گی اور وہ آپ کی مدد کریں گے چنانچہ قرآن کریم میں يُمْدِدْكُمْ رَبُّكُمْ بِخَمْسَةِ اٰلٰفٍ مِّنَ الْمَلٰٓىِٕكَةِ مُسَوِّمِيْنَ (آل عمران :۱۲۵) کے الفاظ آتے ہیں یعنی اللہ تعالیٰ نے بعض جنگوں میں پانچ پانچ ہزار ملائکہ کے لشکر کے ساتھ مسلمانوں کی مدد کی۔ان معنوں کو مدنظر رکھتے ہوئے يَوْمَ يَقُوْمُ الرُّوْحُ وَ الْمَلٰٓىِٕكَةُ صَفًّا سے خاص طور پر فتح مکّہ کی طر ف اشارہ سمجھا جائے گا۔وہ وقت ایسا تھا کہ جیسے ایک غالب بادشاہ سے مغلوب قوم ڈرتی ہے اسی طرح مشرکین مکہ ڈرتے اور کانپتے ہوئے آپ ؐکے سامنے پیش ہوئے اُن کے اندر یہ طاقت ہی نہیں تھی کہ وہ بول سکیں۔سوائے اس کے کہ رحمٰن خدا کے حکم سے رسول کریم صلے اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی طرف سے انہیں بولنے کی اجازت ملتی۔اس میں کیا شک ہے کہ جہاں تک انسانی انصاف کا سوال ہے کفّار مکّہ سخت سزا کے مستحق تھے مگر رحمن خدا نے