تفسیر کبیر (جلد ۱۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 93 of 615

تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 93

ان کے لئے بخشش کا فیصلہ محمد رسول اللہ علیہ وسلم کو سنا دیا تھا پس جب کفار مکہ نے رسول کریم صلے اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے کہا کہ ہم سے وہی سلوک کرو جو یوسف نے اپنے بھائیوں سے کیا تو انہوں نے اسی سبق کو دُہرایا جو رحمن نے قرآ ن کریم میں ان کو دیا تھا کہ ہم نے محمدؐ کو مثل یوسف بنایا ہے اور جب محمد رسول اللہ صلعم نے معاف فرما یا تب بھی رحمٰن کے حکم ہی کو دُہرایا۔لَا يَتَكَلَّمُوْنَ اِلَّا مَنْ اَذِنَ لَهُ الرَّحْمٰنُ میںدربار محمدیؐ کا نقشہ پھر تیسرے معنوں کے لحاظ سے اس میں غلبۂ اسلام کی طرف بھی اشارہ ہے اور مراد یہ ہے کہيَوْمَ يَقُوْمُ الرُّوْحُ جس دن ہمارا رسول محمد صلے اللہ علیہ وآلہٖ وسلم تم پر فتح حاصل کر کے کھڑا ہو گا وَ الْمَلٰٓىِٕكَةُ صَفًّا اور ملائکہ اس کے ساتھ صف باندھے کھڑے ہوںگے۔یہاں ملائکہ سے ہم فرشتے مراد نہیں لیں گے بلکہ مراد یہ لیں گے کہ ایسے لوگوں کی جماعت آپ کے ساتھ ہو گی جو ملائکہ صفت ہوں گے۔اسلام کی منظم حکومت دنیا میں قائم ہو جائے گی اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم براہ راست دنیا سے خطاب کریں گے لَا یَتَکَلَّمُوْنَ اِلَّا مَنْ اَذِنَ لَہُ الرَّحْمٰنُ اُس وقت وہی بولے گا جسے خدا کی طرف سے بولنے کی اجازت ہو گی یعنی محمد رسول اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے دربار میں بولنے والے ایسے ہی ہوں گے جن کو خدا نے اجازت دی ہو گی کہ وہ بولیں۔وَقَالَ صَوَابًا اور وہ جو بھی مشورہ دیں گے بالکل صحیح ہو گا۔گویا محمد صلے اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایسی جماعت ملے گی جس کی بڑی خوبی یہ ہو گی کہ وہ تب بولے گی جب خدا اُسے حکم دے گا وہ کوئی کام خدا کے حکم کے بغیر نہیں کرے گی۔جو کچھ کہے گی خدا کے حکم کے مطابق کہے گی اور جو کچھ کرے گی خدا کے حکم کے مطابق کرے گی۔باقی لوگوں کا یہ حال ہے کہ وہ خدا کی اجازت کی طرف نہیں دیکھتے بلکہ اپنی نفسانی خواہشات کے پیچھے چلتے ہیں۔خدا نے نہیں کہا کہ رنڈیوں کا ناچ دیکھو مگر وہ رنڈیوں کا ناچ دیکھتے ہیں۔خدا نے نہیں کہا کہ تم بے ہودہ اور گندے گانے سنو مگر وہ اپنی ساری لذّت انہی گندی گانوں میں سمجھتے ہیں۔خدا نے نہیں کہا کہ لغو قصّے کہانیوں میں اپنا وقت گزارو۔مگروہ اپنا اکثر وقت ایسی ہی گندی کتابوں اور ناولوں کے پڑھنے میں صرف کر دیتے ہیں۔گویا وہ جو کچھ کرتے ہیں خدا کے اذن کے بغیر اور اس کے منشاء کے خلاف کرتے ہیں۔مگر محمد صلے اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو اللہ تعالیٰ ایسی جماعت دے گا جس کے افراد اُسی وقت بولیں گے جب خُدا اُن سے کہے گا کہ بولو۔اس کے بغیر وہ کوئی بات نہیں کریں گے وَقَالَ صَوَابًا اور پھر وہ سچے مشورے دینے والے ہوں گے جھوٹے مشورے دینے والےاور خوشامدی نہیں ہوں گے گویا ان آیات میں دربار محمدؐی کا نقشہ کھینچا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ وہ اِس اِس طرح ہو گا۔يَقُوْمُ الرُّوْحُ سے مراد غلبہ اسلام اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جس دن ہمارے رسول کی روح کھڑی ہوئی اور روح