تفسیر کبیر (جلد ۱۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 91 of 615

تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 91

شروع کر دے گااور اُسے انسان کا جسم بنا دے گا۔انسان اپنے ذہن میں اس جسم کو اسی جسم کا ایک تسلسل سمجھے گا اور یہی یقین رکھے گا کہ میں وہی آدمی ہوں جو دنیا میں ہوا کرتا تھا مگر وہ جسم اور ہو گا۔حضرت ابن عباسؓ کے قول سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ بھی یہی سمجھتے تھے کہ اگلے جہان میں ہر انسان کو رُوحانی جسم ملے گا کیونکہ وہ رُوح سے ارواح بنی آدم مراد لیتے ہیں صرف بنو آدم مراد نہیں لیتے۔معلوم ہوتا ہے خود قتادہ کو جو اُن کے شاگرد تھے یہ شبہ پیدا ہوا ہے کہ میرے اُستاد تو ارواح بنی آدم مرادلے رہے ہیں اور اس طرح اُن کے اپنے عقیدے سے وہ اختلاف رکھتے ہیں۔چنانچہ قتادہ کہتے ہیں ھَذَا مَاکَانَ یُخْفِیْہٖ ابْنُ عَبَّاسٍ کہ ابن عباس کا مطلب درحقیقت بنو آدم سے ہی تھا مگر انہوں نے اسے لفظوں میں چھپا دیا۔حالانکہ اُن کو اخْفا کی کیا ضرورت تھی۔معلوم ہوتا ہے ابن عباس کا یہی عقیدہ تھا کہ جو شخص مرجا تا ہے اس کا جسم فنا ہو جاتا ہے زندگی صرف روح کو ہی ملتی ہے۔بہرحال یہ سارے معنے وہ ہیں جو اگلے جہان پر ہی چسپاں ہوتے ہیں اس جہان پر چسپاں نہیں ہوتے۔جیسا کہ میں بتا چکا ہوں اس سورۃ میں غلبۂ قرآن۔غلبۂ اسلام اور قیامت تینوں چیزوں کا ذکر ہے اور تینوں چیزیں مراد لی جا سکتی ہیں لیکن یہ معنے تینوں مقامات پر چسپاں نہیں ہوتے۔بے شک قیامت پہ چسپاں ہو جائیں گے مگر غلبۂ قرآن یا غلبۂ اسلام پر چسپاں نہیں ہو سکیں گے۔الروح سے مراد آنحضرت کی روح اس لئے اب میں وہ معنے بتاتا ہوں جو اس دنیا پربھی چسپاں ہو جاتے ہیں اور اگلے جہان پر بھی چسپاں ہو جاتے ہیں اور وہ معنے یہ ہیںکہ میں اَلرُّوحُ سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی روحِ کامل مراد لیتا ہوں اور یَوْم سے مراد قیامت کا وہ دن لیتا ہوں جب رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم شفاعت فرمائیں گے اور یہ معنے ایسے ہیں جن کی قرآن اور حدیث دونوں سے تصدیق ہوتی ہے۔حدیثوں سے صاف پتہ لگتا ہے کہ قیامت کے دن لوگوں پر سخت گھبراہٹ طاری ہو گی اُس وقت آپ فرماتے ہیں کہ میں خدا کے سامنے جا کر لوگوں کی شفاعت کروں گا پس روح سے مراد اس جگہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی روح کامل ہے۔تو آیت يَوْمَ يَقُوْمُ الرُّوْحُ وَ الْمَلٰٓىِٕكَةُ صَفًّا کے معنے ہوں گے جس دن کھڑی ہو گی روحِ کامل اور کھڑے ہوں گے ملائکہ صف باندھ کر۔لَا یَتَکَلَّمُوْنَ اس وقت کوئی نہیں بولے گا اِلَّا مَنْ اَذِنَ لَہُ الرَّحْمٰنُ سوائے اس کے جسے خدا اجازت دے گا اور کہے گا کہ تُو لوگوں کی شفاعت کر سکتا ہے۔اَذِنَ لَہُ الرَّحْمٰنُ کے الفاظ بھی بتا رہے ہیں کہ یہاں شفاعت کا ہی ذکر ہو رہا ہے کیونکہ شفاعت ہی ایک ایسی چیز ہے جو اذن سے ہو گی اور وہی لوگ شفاعت کریں گے جنہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کی اجازت ملے گی۔چنانچہ حدیثوں میں آتا ہے۔رسول کریم صلے اللہ علیہ وآلہٖ وسلم فرماتے ہیں جب قیامت کا دن آئے گا فَیَشْفَعُ النَّبِیِّوْنَ وَالْمَلٰئِکَۃُ وَالْمُؤْمِنُوْنَ فَیَقُوْلُ الْجَبَّارُ بَقِیَتْ