تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 90
افراد میں سے کامل ہے چنانچہ کہتے ہیں اَنْتَ الرَّجُلُ یعنی مرد کے کمالات کو اگر دیکھا جائے تو اس کی تعریف تجھ پر ہی صادق آتی ہے۔باقی مردوں میں کچھ نہ کچھ نقص ہیں۔(اقرب) یہاںاَلرُّوْحُ میںبھی اَلْ کمال کے اظہار کے لئے لایا گیا ہے اور مراد یہ ہے کہ ارواح میں سے کامل روح۔اَلصَّوَابُ: اَلصَّوَابُ اَللَّائِقُمناسب۔اَلْحَقُّ پکی بات۔ضِدُّالْخَطَإِ درست بات (اقرب) تفسیر۔یَوْمَ یَقُوْمُ ظرف ہو سکتا ہےلَا یَمْلِکُوْنَ کا بھی اور لَا یَتَکَلَّمُوْنَ کا بھی یعنی لَا یَمْلِکُوْنَ یَوْمَ یَقُوْمُ الرُّوْحُ وَالْمَلَآئِکَۃّ صَفًا یا لَایَتَکَلَّمُوْنَ یَوْمَ یَقَوْمُ الرُّوْحُ وَالْمَلٰٓئِکَۃُصَفًا میں نے جو معنے کئے ہیں اس کے لحاظ سے یَوْمَ یَقَوْمُ الرُّوْحُ والی آیت لَایَتَکَلَّمُوْنَ سے زیادہ تعلّق رکھتی ہے گو لَایَمْلِکُوْنَ سے بھی اس کا تعلق ثابت ہے۔بہرحال میرے معنوں کے رُو سے اگر اس آیت کو لَا یَتَکَلَّمُوْنَ کے ساتھ لگایا جائے تو زیادہ مناسب معلوم ہوتا ہے۔يَقُوْمُ الرُّوْحُ کے فقرہ میں ارواح سے مراد مفسرین کے نزدیک اللہ تعالیٰ فر ماتا ہے يَوْمَ يَقُوْمُ الرُّوْحُ وَ الْمَلٰٓىِٕكَةُ صَفًّا جس دن روح بھی اور ملائکہ بھی صف باندھ کر کھڑے ہوں گے۔یہاں روح کے متعلق سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ کیا چیز ہے۔ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ اس سے ارواح بنی آدم مراد ہیں۔حسن ؔاور قتادہؔ کہتے ہیں کہ اس سے بنو آدم مراد ہیں۔شعبی اور سعید بن جبیر کہتے ہیں کہ اس سے مراد جبریل ہے اور وہ نَزَلَ بِہٖ الرُّوْحُ الْاَمِیْنُ (الشعرآء:۱۹۴) سے استدلال کرتے ہیں گویا مفسّرین کے نزدیک روح سے مراد ارواح بنی آدم بنو آدم یا جبریل ہے بعض نے یہ معنے بھی کئے ہیں گو یہ بالکل لغو ہیں کہ اس سے مراد انسانوں کے سوا کوئی اور جنس ہے مگر یہ بالکل لغو بات ہے جب تک قرآن سے ایسی بات ثابت نہ ہو اُسے پیش کرنا خلاف عقل ہے۔لیکن باقی معنے ایسے ہیں جو اس آیت پر چسپاں کئے جا سکتے ہیں۔حضرت ابن عباس ؓکے قول سے اتنی بات ضرور معلوم ہوتی ہے کہ وہ اگلے جہاں کی زندگی کو اسی جسم کے ساتھ نہیں سمجھتے تھے بلکہ وہ یہ عقیدہ رکھتے تھے کہ انسانی جسم فنا ہو جاتے ہیںاور ارواح انسانی کو اگلے جہان میں زندگی دی جاتی ہے اسی لئے انہوں نے معنے یہ کئے ہیں کہ اس سے ارواح بنی آدم مراد ہیں۔لیکن حسن اور قتادہ کہتے ہیںکہ اس سے بنو آدم مراد ہیں گویاوہ اس بات کے قائل تھے کہ زندگی اسی مادی جسم کے ساتھ ہو گی۔یہ بھی ایک اختلاف ہے جو مسلمانوں میں دیر سے چلا آ رہا ہے کہ یہی جسم دوبارہ زندہ ہو گا یا کوئی اور جسم ہو گا۔ہمارا عقیدہ یہ ہے کہ وہاں جسم توضرور ہو گا مگر وہ ایک روحانی جسم ہو گایہ موجودہ جسم نہیں ہو گا۔یہ جسم مٹی میں مل کر فنا ہو جائے گا البتہ اس کے کسی باریک حصہ کو لے کر جسے درحقیقت روحانی حصہ ہی کہنا چاہیے اللہ تعالیٰ اُسے نشوونما دینا