تفسیر کبیر (جلد ۱۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 89 of 615

تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 89

مقدرت نہیں رکھے گا۔یہ امر یاد رکھنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ سے دعا کرنا خطاب نہیںکہلاتا کیونکہ خطاب کے معنے ہوتے ہیںآمنے سامنے ہو کر بات کرنا اور اس طرح خدا تعالیٰ سے بالمشافہ گفتگو کرنے کی کسی انسان میں طاقت نہیں ہے اگلے جہان میں بھی ایسا ہی ہو گاجس کو اجازت ہو گی بولے گا اور جس کو اجازت نہیں ہو گی نہیں بولے گا۔اور درحقیقت لَا یَمْلِکُوْنَ مِنْہُ خِطَابًا سے مراد ہی یہ ہے کہ یہ چیز اختیاری نہیں ہو گی ورنہ یہ مراد نہیں کہ ایسا ہوگا ہی نہیں۔لَا یَمْلِکُوْنَ مِنْہُ خِطَابًامیں صفت رحمانیت کی طرف اشارہ لَا یَمْلِکُوْنَ مِنْہُ خِطَابًا میں اللہ تعالیٰ کی صفتِ رحمانیت کی طرف بھی اشارہ کیا گیا ہے اس سے پہلے اَلرَّحْمٰن کا لفظ اللہ تعالیٰ نے استعمال کیا تھا جس میں اس امر کی طرف اشارہ تھا کہ یہ ہمارا احسان ہے کہ ہم نے تم پر اپنا کلام نازل کیا ورنہ کسی انسانی عمل کے نتیجہ میں کلامِ الٰہی نازل نہیں ہوا کرتا۔پس رحمٰن کے لفظ میں جو اشارہ تھا کہ ہماری صفتِ رحمانیت کے نتیجہ میں ہی محمد صلے اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ا ٓئے ہیںاگر ہم محمدصلے اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو نہ بھیجتے اور اگر قرآن ہماری طرف سے نازل نہ ہوتا تو تمہیں یہ ترقیات بھی نصیب نہ ہوتیں اور نہ ہماری طرف سے تمہیں کوئی جز اء ملتی۔پس یہ جزاء جو تمہیں مل رہی ہے درحقیقت نتیجہ ہے خدائی کلام کا۔مگر لَا یَمْلِکُوْنَ مِنْہُ خِطَابًا۔کسی انسان میں اُس سے خطاب کرنے کی طاقت نہیں وہ آپ جب فضل نازل کرنا چاہے نازل کر دیتا ہے انسانی مقدرت اور کوشش کا اس میں دخل نہیں ہوتا۔گویا رَّبِّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَيْنَهُمَا الرَّحْمٰنِ لَا يَمْلِكُوْنَ مِنْهُ خِطَابًا میں رحمٰن کا لفظ جو بظاہر زائد لایا گیا تھا اس کی وجہ بیان کر دی کہ تمہارے بس اور طاقت کی یہ بات نہیںتھی کہ تم اس قدر ترقی کر جاتے۔تم نے جو کچھ ترقی کی ہے کلام الٰہی پر عمل کے نتیجہ میں کی ہے اور کلام الٰہی اللہ تعالیٰ کی صفت رحمانیت کا نتیجہ ہوتا ہے زور سے اُسے حاصل نہیں کیا جا سکتا۔يَوْمَ يَقُوْمُ الرُّوْحُ وَ الْمَلٰٓىِٕكَةُ صَفًّا١ۙۗؕ لَّا يَتَكَلَّمُوْنَ (یہ اس دن ہو گا ) جس دن کہ روح کامل اور فرشتے صف باندھ کر کھڑے ہوں گے (اور) وہ بات نہ کر سکیں گے اِلَّامَنْ اَذِنَ لَهُ الرَّحْمٰنُ وَ قَالَ صَوَابًا۰۰۳۸ سوائے اس کے جسے رحمان (خدا) نے اجازت دی ہو گی۔اور وہ (مناسب موقعہ) ٹھیک ٹھیک بات کہے گا۔حل لغات۔اَلرُّوْحُ: اَلرُّوْح اَلْ اور رُوْح کا مجموعہ ہے۔اَلْ مختلف اغراض کے لئے کسی لفظ پر داخل کیا جاتا ہے۔اِن اغراض میں سے ایک یہ غرض بھی ہے کہ یہ بتایا جائے کہ جس لفظ پر اَلْ داخل ہوا ہے وہ فرد اپنے