تفسیر کبیر (جلد ۱۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 88 of 615

تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 88

جان دی۔دی ہوئی اُسی کی تھی حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا (دیوان غالب از مرزا اسد اللہ خان غالب ) فرمایا ہمارا یہ احسان ہے کہ ہم اس کے لئے جز اء کا لفظ استعمال کر رہے ہیں ورنہ تم نے جو کچھ کیا وہ تو ہمارے فضلوںکا ایک طبعی نتیجہ تھا اُس میں تمہاری کون سی قابلیت تھی اگر ہم قرآن کریم نازل نہ کرتے۔اگر ہم اپنے کلام میں تمہیں اپنی ہدایت کی راہیں نہ بتاتے تو تم کس طرح وہ مقامات حاصل کر سکتے جو آج تمہیں حاصل ہیں۔یہ قرآن ہی تھا جس نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو رسالت کے بلند ترین مقام پر پہنچا دیا۔یہ قرآن ہی تھا جس نے ابو بکر کو ابو بکر ؓ۔عمر کو عمرؓ۔عثمان کو عثمانؓ اور علی کو علیؓ بنایا۔بے شک ان لوگوں نے بڑی قربانیاں کیں۔بے شک ان لوگوں نے دین کی بڑی خدمتیں کیں مگر یہ سب ہماری صفتِ رحمانیت کا نتیجہ تھا۔یہ سب قرآن کا نتیجہ تھا۔پس گوہم تمہارے لئے جزاء کا لفظ استعمال کر رہے ہیں مگر اس بات کو بھول نہ جاناکہ یہ محض ہماری صفت رحمانیت کا نتیجہ ہے جیسا کہ قرآن کریم میں دوسرے مقام پر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اَلرَّحْمٰنُ عَلَّمَ الْقُرْاٰنَ (الرحمٰن:۲،۳) کہ اگر رحمٰن خدا کی طرف سے قرآن نازل نہ ہوتا۔اگر اس کی طرف سے تم پر یہ علوم اور معارف کھولے نہ جاتے تو تم کو وہ مقام کبھی حاصل نہ ہو سکتا جس پر آج تم پہنچے ہوئے ہو۔رَبِّ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ کہہ کر اس طرف اشارہ فرمایا ہے کہ جس رب کی طرف سے تم کو یہ جزاء ملے گی وہ آسمان و زمین اور جو کچھ اُن کے درمیان ہے ان سب کا رب ہے۔پس وہ جس پر مہربان ہویہ سب کُچھ اُسے بخش سکتا ہے گویا بخشش کی وسعت کے امکان کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔لَا یَمْلِکُوْنَ مِنْہُ خِطَابًا۔ان کو اختیار نہیں ہے اُس سے خطا ب کرنے کا۔یا اُس سے خطاب کرنے کی وہ طاقت نہیں پاتے۔دنیا میں بعض کام ایسے ہوتے ہیں جن میں ایک شخص دوسرے پر زور دے کر اُس سے اپنی بات منوالیتا ہے یا اگر بات نہ منوائے تو اس پر زور ضرور ڈالتا ہے مثلاً زیدؔ بکرؔسے بات کرتا ہے۔اب خواہ بکر زیدؔ کی بات کو مانے یا نہ مانے زیدؔ اس سے خطاب کر لیتا ہے۔مگر اللہ تعالیٰ کی ہستی ایسی ہے کہ اس جہان میں بھی اور اگلے جہان میں بھی وہ لَا یَمْلِکُوْنَ مِنْہُ خِطَابًا کی شان رکھتی ہے یعنی اُس سے خطاب کرنے پر کوئی انسان مقدرت نہیں رکھتا۔دنیا میں تو انسان کو خدا تعالیٰ پر جو ایمان ہوتا ہے وہ ہوتا ہی ایمان بالغیب ہے اس لئے اس میں خطاب کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا لیکن آخرت میں بھی یہی کیفیت ہو گی کہ کوئی انسان اس کی اجازت کے بغیر اُس سے گفتگو کرنے کی