تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 87
وَخِطَابًا۔کَالَمَہُ یعنی اس سے آمنے سامنے ہو کر با ت کی (اقرب) پس خِطَاب کے معنے ہوں گے آمنے سامنے ہو کر بات کرنا۔تفسیر۔پہلے اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا جَزَآءً مِّنْ رَّبِّكَ کہ یہ تیرے رب کی طرف سے جزا ہے اور جزاء رحیمیّت کی علامت ہوتی ہے یعنی جزا اُسی کو ملتی ہے جو کام کرتا ہے پس پہلے تو فرمایا تھا کہ جَزَآءً مِّنْ رَّبِّكَ مگر آگے اَلرَّحْمٰن کا لفظ استعمال فرما دیا جو صفت رحمانیت پر زور دینے کے لئے استعمال ہوتا ہے اور بتاتا ہے کہ اُس ذات کی طرف سے تمہیں یہ جزا ملے گی جو رحمن ہے۔یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ رحمٰن اس کو کہتے ہیں جو بغیر کام کے بدلہ دے اور جَزَآءً مِّنْ رَّبِّكَ میں یہ بتایا گیا کہ جزاء کام کے بدلہ میں ہو گی کیونکہ جزاء صفتِ رحیمیت کے تابع ہے صفتِ رحمانیت کے تابع نہیں۔پس سوال پیدا ہوتا ہے کہ پہلے صفت رحیمیت کے نتیجہ میں جزاء قرار دے کرآگے صفت رحمانیت کا کیوں ذکر کیا گیا ہے۔جزاء کا لفظ بیان کرنے کے بعد لفظ رحمٰن بیان کرنے کی دو حکمتیں اس کے متعلق یہ امر بھی سمجھ لینا چاہیے کہ یہاں اَلرَّحْمٰن کا لفظ لانے میں دو حکمتیں ہیں ایک تویہ کہ رحمٰن کالفظ لا کر اس طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں جو کچھ دیا ہے صفت رحیمیت کے ماتحت دیا ہے مگر وہ صرف رحیم ہی نہیں بلکہ رحمن بھی ہے۔جب صفتِ رحیمیت کے ماتحت اس نے تمہیں یہ یہ کچھ دے دیا تو تم خود ہی سمجھ لو کہ وہ کیا انعام ہو گا جو صفت رحمانیت کے ماتحت تمہیں ملے گا وہ تو لازمًااس سے بہت بڑا انعام ہو گا کیونکہ وہ کسی کام کے بدلہ میں استحقاق کے طور پر نہیں ہو گا بلکہ اللہ تعالیٰ اپنی صفت رحمانیت کے ماتحت تمہیں اپنے اس انعام سے حصہ دے گا۔گویا وہ خدا جو آسمانوں اور زمینوں کا رب ہے جس نے اپنی صفت رحیمیت کے ماتحت تمہیں اپنی نعمتوں سے حصہ دیا اُس کی ایک صفت یہ بھی ہے کہ وہ رحمٰن ہے جب رحیمیت کے ماتحت اس نے تمہیں ایسی عطا دے دی جو تمہاری تمام ضروریات پر حاوی ہے بلکہ تمہاری ضرورتوں سے بھی زائد ہے تو تم اس کی صفت رحمانیت کے ماتحت آنیوالے انعامات کا اندازہ بھی کب کر سکتے ہو۔گویا یہ نہ سمجھو کہ یہ ہمارا آخری انعام ہے بلکہ یہ انعام تو صرف صفت ِرحیمیت کے نتیجہ میں تمہیں حاصل ہؤا ہے صفتِ رحمانیت کے ماتحت جو انعام ملے گا وہ تو بہت ہی زیادہ ہو گا۔دوسرے رحمٰن کا لفظ لا کر اس طر ف بھی اشارہ کیا گیا ہے کہ گو ہم اس کے لئے جز اء کا لفظ بولتے ہیں مگر درحقیقت بات وہی ہے جو غالب نے اپنے شعر میں کہی کہ